مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٠٠٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا عمران القطان عن قتادة عن أبي الخليل عن عبد اللَّه بن (الحارث) (١) عن أم سلمة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: " يُبايع لرجل بين الركن والمقام (كعدة أهل) (٢) بدر، فتأتيه عصائب العراق وأبدال الشام، فيغزوهم جيش من أهل الشام حتى إذا كانوا بالبيداء (يخسف) (٣) بهم، ثم يغزوهم رجل من قريش أخواله كلب فيلتقون فيهزمهم اللَّه، فكان يقال: الخائب من خاب ⦗٢٣٢⦘ من غنيمة كلب" (٤).حضرت ام سلمہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی کی رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان اصحاب بدر کی تعداد کے برابر بیعت کی جائے گی اس کے پاس عراقی زاہدوں کے گروہ اور شام کے ابدال آئیں گے ان سے لڑائی کرے گا شامیوں میں سے ایک لشکر یہاں تک کہ جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا پھر ان سے قریش میں سے ایک آدمی جس کے ماموں بنوکلب میں سے ہوں گے لڑائی کرے گا ان کی آپس میں مڈ بھیڑ ہوگی اللہ ان کو شکست دے دے گا پس کہا جاتا تھا نامراد وہ ہے جو کلب کی غنیمت کے پانے سے نامراد رہا۔