مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٠٠٤ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا رزين الجهني قال: حدثنا (أبو الرقاد) (١) قال: خرجت مع مولاي وأنا غلام، فدفعت إلى حذيفة وهو يقول: إن كان الرجل ليتكلم (بالكلمة) (٢) على عهد النبي ﷺ فيصير منافقا، وإني لأسمعها من أحدكم في المقعد الواحد أربع مرات، لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، ⦗٢٣١⦘ ولتحاضن على الخير أو ليسحتنكم اللَّه بعذاب جميعا، أو ليؤمرن عليكم شراركم، ثم يدعو خيارُكم فلا يستجاب لهم (٣).حضرت ابو الرقاد سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں غلام ہونے کی حالت میں اپنے آقا کے ساتھ نکلا مجھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اس حال میں کہ وہ فرما رہے تھے اگر کوئی آدمی وہ کلام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کرتا تو منافق ہوجاتا اور بلاشبہ وہ کلام میں نے تم میں ہر ایک سے ایک ایک مجلس میں چار مرتبہ سنا ہے (وہ کلام یہ ہے) ضرور بالضرور تم بھلائی کا حکم کرو اور ضرور بالضرور تم برائی سے روکو اور ضرور تم بھلائی پر رہو وگرنہ اللہ تم سب کو عذاب کے ذریعے برباد کردے گا یا تمہارے شریروں کو تم پر حاکم بنا دے گا پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جائے گی۔