مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٤٠٠٠٢ - حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن عبيد اللَّه بن القبطية قال: دخل الحارث بن أبي ربيعة وعبد اللَّه بن صفوان على أم سلمة وأنا معها فسألاها عن ⦗٢٣٠⦘ الجيش الذي يخسف به، وذلك في زمان ابن الزبير، فقالت: قال رسول اللَّه ﷺ: " (يعوذ) (١) (عائذ) (٢) بالبيت فيبعث البه بعث؛ فإذا كان ببيداء من الأرض يخسف بهم"، فقلنا: يا رسول اللَّه! كيف بمن كان كارها؟ قال: "يخسف به معهم، ولكنه يبعث يوم القيامة (على نيته) (٣) "، قال أبو جعفر (٤): هي بيداء المدينة (٥).حضرت عبید اللہ بن قبطیہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا حارث بن ابی ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام سلمہ کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا ان دونوں نے ان سے پوچھا اس لشکر کے بارے میں جسے دھنسا دیا گیا اور یہ واقعہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کے زمانے میں پیش آیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک پناہ پکڑنے والا بیت اللہ میں پناہ پکڑے گا اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا جب وہ ایک میدان میں ہوں گے تو ان کو دھنسا دیا جائے گا ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس آدمی کی کیا حالت ہوگی جس پر زبردستی کی گئی ہو ارشاد فرمایا اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن قیامت والے دن اسے اس کی نیت پر اٹھا یا جائے گا ابو جعفر راوی فرماتے ہیں یہ مدینہ کا میدان تھا۔