مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩٩٧ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن زينب بنت أبي سلمة عن (حبيبة) (١) عن أم حبيبة عن زينب بنت جحش أنها قالت: استيقظ رسول اللَّه ﷺ من نومه محمرًا وجهه، وهو يقول: "لا إله إلا اللَّه، ويل للعرب من شر قد اقترب، فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج"، وعقد بيده -يعني عشرة- قالت زينب: قلت: يا رسول اللَّه أنهلك وفينا الصالحون؟ قال: "نعم، إذا ظهر الخبث" (٢).حضرت زینب بنت حجش سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی نیند سے بیدار ہوئے اس حال میں کہ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور یہ ارشاد فرما رہے تھے، لا الہ الا اللہ عرب کے لے قریب کے شرو برائی سے ہلاکت ہے آج یاجوج وماجوج کی دیوار سے کچھ کھول لیا گیا اور اپنے ہاتھ سے دس کا عدد بنایا جس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کا کنارے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے موڑ کے درمیان میں رکھ کر حلقہ بنایا جائے حضرت زینب فرماتی ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ہم اس حال میں ہلاک ہوسکتے ہیں جبکہ نیک لوگ ہمارے اند ر موجود ہوں آپ نے ارشاد فرمایا ہاں جب خباثت ظاہر ہوجائے۔