مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩٨١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت بن زيد عن أبي بردة قال: دخلت على محمد بن مسلمة فقلت له: رحمك اللَّه! إنك من هذا الأمر بمكان، فلو خرجت إلى الناس فأمرت ونهيت؟ فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "أنها ستكون فتنة وفرقة واختلاف، فإذا كان ذلك فات بسيفك أحدا فاضربه حتى تقطعه، ثم اجلس في بيتك حتى تأتيك يد خاطئة أو (منية) (١) قاضية"، فقد وقعت وفعلت ما قال لي رسول اللَّه ﷺ (٢).حضرت ابو بردہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا میں حضرت محمد بن مسلمہ کے پاس گیا میں نے ان سے عرض کیا اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ اس معاملے میں اس مرتبے پر ہیں اگر آپ لوگوں کی طرف نکلیں آپ روکتے اور حکم دیتے تو انہوں نے ارشاد فرمایا بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا عنقریب فتنے اور تفرق و اختلافات ہوں گے پس اگر ایسا ہو تو اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پر جانا تلوار اس پر مارنا یہاں تک کہ تو اسے توڑ دے پھر اپنے گھر مں پ بیٹھ جانا یہاں تک کہ تیرے پاس آئے کوئی غلطی کرنے والا ہاتھ یا فیصلہ کرنے والی موت پس ایسا ہوچکا ہے لہذا میں نے ایسا ہی کیا ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا۔