حدیث نمبر: 39975
٣٩٩٧٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا الأعمش عن المسيب بن رافع عن (يسير) (١) بن عمرو قال: شيعنا (أبا) (٢) مسعود حين خرج، فنزل في طريق القادسية فدخل بستانا، فقضى الحاجة ثم توضأ ومسح على جوربيه، ثم خرج وإن لحيته ليقطر منها الماء، فقلنا له: أعهد إلينا، فإن الناس قد وقعوا في الفتن، ولا ندري هل نلقاك أم لا؟ قال: اتقوا اللَّه واصبروا حتى يستريح بر أو يستراح من فاجر، وعليكم بالجماعة، فإن اللَّه لا يجمع أمة محمد على ضلالة (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یسیر بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم حضرت ابن مسعود کے ہم نوا تھے جب وہ نکلے پس وہ قادسیہ کے راستے میں اترے پس داخل ہوئے باغ میں قضاء حاجت کی پھر وضو فرمایا اور اپنی جرابوں پر مسح کیا پھر نکلے اس حال میں کہ پانی کے قطرات ان کی داڑھی سے سے ٹپک رہے تھے ہم نے ان سے عرض کیا ہمیں نصیحت کریں کیونکہ لوگ فتنوں میں پڑگئے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہم آپ سے ملیں گے یا نہیں انہوں نے ارشاد فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو یہاں تک کہ نیک آدمی راحت پائے یا فاسق فاجر سے راحت پالی جائے اور لازم ہے تم پر جماعت بلا شبہ اللہ تعالیٰ امت محمد کو گمراہی پر جمع نہیں کریں گے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (بشير)، وفي [س]: (نسير)، وانظر: تحفة الأحوذي ٦/ ٣٢٢.
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ]: (ابن)، وانظر: تلخيص الحبير ٣/ ١٤١.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39975
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ٤٠/ ٥٢٤، والخطيب في الموضح ١/ ٣٩٢، والطبراني ١٧/ (٦٦٧)، وإسحاق كما في المطالب (٤٣٤٠)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ٢٧٧، والبيهقي في الشعب (٧٥١٧)، واللالكائي (١٦٢)، والحاكم ٤/ ٥٥٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39975، ترقيم محمد عوامة 38347)