حدیث نمبر: 39974
٣٩٩٧٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد اللَّه قال: لما بعث (عثمان إليه) (١) يأمره بالخروج إلى المدينة اجتمع الناس إليه فقالوا له: أقم، لا تخرج، فنحن نمنعك، لا يصل إليك منه شيء تكرهه، فقال عبد اللَّه: إنها ستكون أمور وفق، (لا) (٢) أحب أن أكون أنا أول من فتحها وله علي (طاعة) (٣)، قال: فرد الناس وخرج إليه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان نے ان کو مدینہ کی طرف نکلنے کا حکم دیا لوگ آپ کے پاس جمع ہوگئے اور ان سے کہا ! آپ رکیے ہم آپ کی حفاظت کریں گے اور آپ کو کوئی ناپسندیدہ امر نہیں پہنچے گا حضرت عبد اللہ نے فرمایا بلا شبہ عنقریب کچھ امور اور فتنے ہوں گے میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں ان کو کھولنے والوں میں سے پہلا ہوجاؤں ان کے لیے مجھ پر اطاعت کا حق ہے راوی فرماتے ہیں انہوں نے لوگوں کو واپس کردیا اور حضرت عثمان کے حکم کے مطابق نکل گئے۔

حواشی
(١) في [ع]: (إليه عثمان).
(٢) في [أ، ب]: (ما).
(٣) في [هـ]: (طاقة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39974
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه ابن عبد البر في الاستذكار ٣/ ٩٩٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39974، ترقيم محمد عوامة 38346)