مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 39972
٣٩٩٧٢ - حدثنا شريك عن أبي حصين عن الشعبي (أن رجلًا) (١) (قال) (٢): (يا لضبة) (٣) قال: فكتب إلى عمر، قال: فكتب إليه عمرِ: أن عاقبه، أو قال: أدبه، فإن ضبة لم يدفع عنهم سوءا قط، ولم يجر إليهم (خيرًا) (٤) قط (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے یا لضبۃ کہہ کر ضبہ سے فریاد رسی کی حضرت شعبی نے فرمایا اس سلسلے میں حضرت عمر کی طرف خط لکھا گیا راوی فرماتے ہیں حضرت عمر نے جواب میں لکھا اس کو سزا دو یا فرمایا اس کو ادب سکھاؤ بلا شبہ ضبہ نے کبھی بھی ان سے کوئی برائی دو ر نہیں کی اور نہ ہی کھینچا ان کی طرف خیروبھلائی کو۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (عن رجل).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (بال).
(٣) في [أ، ب، جـ، ع]: (ضبة).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (خير).
(٥) منقطع؛ الشعبي لم يدرك عمر.