حدیث نمبر: 39964
٣٩٩٦٤ - حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب (عن أبي البختري) (١) قال: كتب عمر إلى أبي موسى: إن للناس نُفرةً عن سلطانهم، فأعوذ باللَّه أن تدركني وإياكم ضغائن (محمولة) (٢)، ودنيا مؤثرة وأهواء متبعة، وإنه ستداعى القبائل، وذلك نخوة من الشيطان، فإن كان ذلك فالسيف السيف، القتل القتل، (يقولون) (٣): يا أهل الإسلام! يا أهل الإسلام (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو البختری فرماتے ہیں حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کی طرف دیکھا بیشک لوگوں میں اپنے بادشاہ کے بارے میں نفرت ہوتی ہے میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ یہ نفرت مجھے پالے۔ اور بچو تم پوشیدہ اٹھائی ہوئی دشمنی سے اور ترجیح دی جانے والی دناہ سے اور پیروی کی جانے والی خواہشات سے اور قبائل کو عنقریب بلایا جائے گا اور یہ شیطان کے ابھارنے کی وجہ سے ہوگا پس اگر ایسا ہوجائے تو ہر طرف تلوار ہوگی اور قتل ہوگا۔ وہ کہیں گے اے اہل اسلام اے ا ہل اسلام۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ط]: (مجهولة).
(٣) في [س]: (تقولون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39964
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ أبو البختري لم يدرك عمر، وعطاء اختلط، وروى عنه ابن فضيل بعد اختلاطه، أخرجه أبو عبيد في الأموال (١٠)، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٣١٠)، والبيهقي ١٠/ ١٣٥، والدينوري في المجالسة (١١٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39964، ترقيم محمد عوامة 38336)