مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩٤٧ - حدثنا الثقفي عن أيوب عن ابن سيرين (عن ابن أبي بكرة) (١) (عن أبي بكرة) (٢) عن النبي ﷺ أنه قال: "أي شهر هذا؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، ⦗٢١٣⦘ (قال) (٣): فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه، قال: "أليس (ذا الحجة؟ " قلنا: بلى، قال: "فأي بلد هذا؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه) (٤)، قال: "أليس البلد (الحرام؟) (٥) " قلنا: نعم، قال: "أي يوم هذا؟ " قلنا: اللَّه ورسوله أعلم، قال: فسكت حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه، قال: "أليس يوم النحر؟ "، قلنا: بلى، يا رسول اللَّه، قال: "فإن دماءكم وأموالكم" -قال محمد: وأحسبه (قال) (٦): "وأعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا، وستلقون ربكم فيسألكم عن أعمالكم" (٧).حضرت ابو بکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں، راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ اس مہینے کو اس کے نام کے علاوہ دوسرا نام دیں گے پھر ارشاد فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں، ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ارشاد فرمایا یہ کونسا شہر ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس شہر کو کوئی اور نام سے موسوم کریں گے ارشاد فرمایا کیا یہ بامد حرام نہیں ہے ہم نے عرض کیا جی ہاں ارشاد فرمایا یہ کونسا ہے دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس دن کو کوئی اور نام دیں گے ارشاد فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر ارشاد فرمایا بلا شبہ تمہارے خون اور تمہارے اموال محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت اس شہر میں اس مہینے میں اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔