حدیث نمبر: 39945
٣٩٩٤٥ - حدثنا أبو الأحوص عن شبيب بن غرقدة عن سليمان بن عمرو عن أبيه قال: سمعت النبي ﷺ يقول في حجة الوداع: "أي يوم (أحرم) (١)؟ " ثلاث مرات، فقالوا: يوم الحج الأكبر، قال: "فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم حرام كحرمة يومكم هدْا في شهركم هذا في بلدكم هذا، ألا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده، ولا مولود على والده، ألا يا (أمتاه) (٢) هل بلغت؟ " قالوا: نعم، قال: "اللهم اشهد" -ثلاث مرات (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر سے روا یت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا کس دن میں نے احرام باندھا ہے ؟ تین مرتبہ یہ سوال فرمایا صحابہ کرام j نے جواب دیا حج والے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں اس دن (یعنی عرفہ کی) کی حرمت کی طرح اس مہینے میں اس شہر میں خبردار نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ہی ذات پر نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ذات پر زیادتی کرے والد اپنی اولاد پر اور نہ اولاد اپنے والد پر، خبردار اے میری امت کیا میں نے پہنچا دیا صحابہ کرام j نے جواب دیا جی ہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ گواہ رہنا یہ تین مرتبہ فرمایا۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (هذا).
(٢) سقط من: [س].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39945
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٥٠٧)، وأبو داود (٣٣٣٤)، والترمذي (٢١٥٩)، والنسائي في الكبرى (٤١٠٠)، وابن ماجه (٢٦٦٩)، والبيهقي ٨/ ٢٧، والطبراني ١٧/ (٥٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39945، ترقيم محمد عوامة 38317)