مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩٤٣ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل عن أبي صالح الحنفي قال: جاء رجل إلى (١) حذيفة وإلى (أبي) (٢) مسعود الأنصاري وهما جالسان في المسجد وقد طرد أهل الكوفة سعيد بن العاص، فقال: ما (يجلسكم) (٣) وقد خرج الناس؟ فواللَّه إنا لعلى السنة، فقالا: وكيف تكونون على السنة وقد طردتم إمامكم؟ (واللَّه) (٤) لا تكونون على السنة حتى يشفق الراعي وتنصح الرعية، قال: فقال له رجل: فإن لم يشفق الراعي وتنصح الرعية فما تأمرنا؟ قال: نخرج (وندعكم) (٥) (٦).حضرت ابو صالح حنفی سے روایت ہے کہ ایک صاحب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ایوب انصاری کے پاس آئے وہ دونوں مسجد میں تشریف فرما تھے اور کوفہ والوں نے سعید بن العاص کو نکال دیا تھا تو اس آدمی نے کہا کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے، حالانکہ لوگ تو نکل چکے ہیں بخدا ہم سنت پر ہیں تو ان دونوں حضرات نے فرمایا تم کیسے سنت پر ہوسکتے ہو جبکہ تم نے اپنے امام کو نکال دیا ہے۔ اللہ کی قسم تم سنت پر قائم نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حکمران مہربانی کرے اور رعایا خیر خواہی چاہتی ہو راوی کہتے ہیں کہ ان سے اس آدمی نے کہا کہ اگر امیر نرمی نہ کرے اور رعایا خیر خواہی کرے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں تو انہوں نے ارشاد فرمایا ہم نکلیں گے اور تمہیں بھی دعوت دینگے۔