حدیث نمبر: 39939
٣٩٩٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: كيف أنتم إذا (لبستكم) (١) فتنة يربو فيها (الصغير) (٢)، ويهرم فيها الكبير، ويتخذها الناس سنة، فإن غير منها شيء، قيل: غيرت السنة، قالوا: متى يكون ⦗٢١٠⦘ ذلك يا أبا عبد الرحمن؟ قال: إذاكثرت قراؤكم وقلت أمناؤكم، وكثرت أمراؤكم وقلت فقهاؤكم، والتمست الدنيا بعمل (الآخرة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو وائل حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کیا ہوگی تمہاری حالت اس وقت جب ایک فتنہ مسلسل تم پر طاری رہے گا جس میں چھوٹے پرورش پاجائیں گے اور بڑے بوڑھے ہوجائیں گے یہ لوگ اسے سنت قرار دیں گے اگر اس میں سے کچھ بدلا جائے گا تو کہا جائے گا سنت تبدیل کردی گئی لوگوں نے عرض کیا یہ کب واقع ہوگا اے ابوعبدالرحمان تو حضر ت عبداللہ بن عمر نے فرمایا جب تمہارے قراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے امین کم ہوجائیں گے اور تمہارے امراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے فقہاء کم ہوجائیں گے اور دنیا تلاش کی جائے گی آخرت کے اعمال سے۔

حواشی
(١) في [ط]: (ألبستكم).
(٢) في [أ، ب]: (الضعيف).
(٣) في [أ، ب]: (للآخرة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39939
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد الرزاق (٢٠٧٤٢)، والشاشي (٦١٣)، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٥١٥)، واللالكائي (١٢٣)، والحاكم ٤/ ٥١٤، ونعيم في الفتن (٥١)، وابن حزم في الإحكام ٦/ ٣١٥، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ص ١٨٨، والخطابي في العزلة ص ٨٤، وورد مرفوعًا عن أبي نعيم في الحلية ١/ ١٣٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39939، ترقيم محمد عوامة 38311)