مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي وائل قال: قال عبد اللَّه: كيف أنتم إذا (لبستكم) (١) فتنة يربو فيها (الصغير) (٢)، ويهرم فيها الكبير، ويتخذها الناس سنة، فإن غير منها شيء، قيل: غيرت السنة، قالوا: متى يكون ⦗٢١٠⦘ ذلك يا أبا عبد الرحمن؟ قال: إذاكثرت قراؤكم وقلت أمناؤكم، وكثرت أمراؤكم وقلت فقهاؤكم، والتمست الدنيا بعمل (الآخرة) (٣) (٤).حضرت ابو وائل حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کیا ہوگی تمہاری حالت اس وقت جب ایک فتنہ مسلسل تم پر طاری رہے گا جس میں چھوٹے پرورش پاجائیں گے اور بڑے بوڑھے ہوجائیں گے یہ لوگ اسے سنت قرار دیں گے اگر اس میں سے کچھ بدلا جائے گا تو کہا جائے گا سنت تبدیل کردی گئی لوگوں نے عرض کیا یہ کب واقع ہوگا اے ابوعبدالرحمان تو حضر ت عبداللہ بن عمر نے فرمایا جب تمہارے قراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے امین کم ہوجائیں گے اور تمہارے امراء زیادہ ہوجائیں گے اور تمہارے فقہاء کم ہوجائیں گے اور دنیا تلاش کی جائے گی آخرت کے اعمال سے۔