مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 39935
٣٩٩٣٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن عبد اللَّه بن عامر قال: لما تشعب الناس في الطعن على عثمان قام أبي (يصلي) (١) من الليل ثم نام، قال: فقيل له: قم فاسأل اللَّه أن يعيذك من الفتنة التي أعاذ منها عباده الصالحين، قال: فقام فمرض (فما رئي) (٢) خارجًا حتى مات (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت عثمان پر طعن کے بارے میں گروہوں میں بٹ گئے تو میرے والد کھڑے ہوئے صلاۃ اللیل ادا کی اور پھر سو گئے فرماتے ہیں ان سے کہا گیا آپ کھڑے ہوجائیں اور اللہ سے سوال کریں کہ وہ آپ کو اس فتنے سے پناہ دے جس سے اس نے نیک لوگوں کو پناہ بخشی ہے راوی فرماتے ہیں پھر وہ کھڑے ہوئے اور بیمار ہوگئے پھر انہیں گھر سے باہر نہیں دیکھا گیا حتیٰ کہ ان کی وفات ہوگئی۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ع]: (فصلى).
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (فمارى).