حدیث نمبر: 39933
٣٩٩٣٣ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن حميد عن أبي (المتوكل) (١) (الناجي) (٢) عن أبي سعيد الخدري قال: إياكم وقتالُ عمية، وميتة جاهلية، قال: قلت: ما قتال عمية؟ قال: إذا قيل: يا لفلان يا بني فلان، قال: قلت: ما ميتة جاهلية؟ قال: أن تموت ولا إمام عليك (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو المتوکل الناجی حضرت ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا بچو تم اندھی لڑائی اور جاہلیت کی موت سے راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اندھی لڑائی کیا ہے ارشاد فرمایا جب یہ پکار ہو اے فلاں اے فلاں کے بیٹے راوی کہتے ہیں میں نے عرض کی جاہلیت کی موت سے کیا مراد ہے ارشاد فرمایا تجھے موت اس حالت میں آئے کہ تم پر کوئی امام مقرر نہ ہو۔

حواشی
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [أ، ب]: (عن الناجية).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39933
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39933، ترقيم محمد عوامة 38305)