مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩٣٢ - حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن هشام عن الحسن قال: قال: محمد بن (مسلمة) (١) أعطاني رسول اللَّه ﷺ سيفا فقال: "قاتل به المشركين (ما قوتلوا) (٢)، فإذا رأيت الناس يضرب بعضهم بعضًا -أو كلمة نحوها- فاعمد به إلى صخرة فاضربه بها حتى ينكسر، ثم اقعد في بيتك حتى تأتيك يد خاطئة أو منية قاضية" (٣).حسن حضرت محمد بن مسلمہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک تلوار عطاء فرمائی اور فرمایا اس سے مشرکین کے ساتھ قتال کرنا جب تک ان سے قتال کیا جائے اور جب تو لوگوں کو دیکھے کہ وہ ایک دوسرے کو مارنا شروع ہوگئے (راوی فرماتے ہیں) یا اسی کے مثل کوئی بات فرمائی تو پھر تلوار لے کر کسی چٹان کا قصد کرنا اور تلوار کو اس چٹان پر مار دینا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا یہاں تک کہ تیرے پاس کوئی غلطی کرنے والا ہاتھ یا فیصلہ کرنے والی موت آجائے۔