مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 39926
٣٩٩٢٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن منصور عن ربعي قال: سمعت رجلا في جنازة حذيفة يقول: سمعت صاحب هذا السرير يقول: ما بي بأس (مذ) (١) سمعت من رسول اللَّه ﷺ: ولئن اقتتلتم لأدخلن بيتي، فلئن دخل علي لأقولن: ها بؤ بإثمي وإثمك (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربعی بن حراش سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے ایک صاحب کو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اس چارپائی والے کو فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے کوئی پروا نہیں جب سے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد سنا ہے کہ اگر تم آپس میں لڑائی کرو گے تو میں اپنے گھر میں داخل ہوجاؤں گا اور اگر کوئی میرے گھر میں داخل ہوگا تو میں کہوں گا لے میرا اور اپنے گناہ کا وبال لے کر لوٹ۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (منذ).
(٢) مجهول؛ لإبهام الرجل، أخرجه أحمد (٢٣٣٠٧)، والطيالسي (٤١٧).