حدیث نمبر: 39925
٣٩٩٢٥ - حدثنا وكيع عن سفيان عن حبيب عن ميمون بن أبي شبيب قال: قيل لحذيفة: أكفرت بنو إسرائيل في يوم (واحد؟) (١) قال: لا، ولكن كانت تعرض عليهم الفتنة فيأتونها فيُكرهون عليها، ثم (تعرض) (٢) (عليهم) (٣) فيأتونها حتى ضربوا عليها بالسياط والسيوف حتى خاضوا (إخاضة) (٤) الماء حتى لم يعرفوا معروفا ولم ينكروا منكرا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت میمون بن ابوشبیب سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، بنی اسرائیل نے ایک دن میں کفر کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا نہیں لیکن ان پر فتنہ پیش کیا جاتا تھا اور وہ اسے اختیار کرنے سے انکار کرتے تھے پس انہیں اس پر مجبور کیا جاتا تھا پھر فتنہ ان پر پیش کیا گیا انہوں نے اسے اختیار کرنے سے انکار کیا، یہاں تک کہ انہیں اس کے اختیار کرنے پر کوڑوں اور تلواروں کے ذریعے مارا گیا یہاں تک کہ وہ اس فتنے میں گھس گئے پانی میں گھس جانے کی طرح (نوبت بایں جارسید) یہاں تک کہ وہ کسی نیکی کو نہ جانتے پہچانتے تھے اور نہ کسی منکر پر انکار کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (أحد).
(٢) في [ع]: (يعرضو له).
(٣) في [ع]: (عليها).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39925
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٩، والبيهقي في الشعب (٧٢١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39925، ترقيم محمد عوامة 38297)