حدیث نمبر: 39921
٣٩٩٢١ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا الصلت بن بهرام قال: أخبرنا المنذر ابن هوذة عن خرشة أن حذيفة دخل المسجد، فمر على قوم يقرئ بعضهم بعضا (فقال) (١): أن تكونوا على الطريقة، لقد سبقتم سبقا بعيدا، وأن تدعوه فقد ضللتم، قال: ثم جلس إلى حلقة، فقال: إنا كنا قوما آمنا قبل أن نقرأ، وإن قوما سيقرأون قبل أن يؤمنوا، فقال رجل من القوم: تلك الفتنة، قال: أجل، قد أتتكم من أمامكم حيث تسوء وجوهكم، ثم لتأتينكم ديما ديما، إن الرجل ليرجع فيأتمر الأمرين: أحدهما عجز، والآخر فجور، قال خرشة: فما برحت إلا قليلا حتى ⦗٢٠٤⦘ رأيت الرجل يخرج بسيفه يستعرض الناس (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خرشہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن میں سے کچھ دوسروں کو قرآن پڑھا رہے تھے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم درست طریقے پر قائم ہو تو تم بہت سبقت لے گئے ہو اور اگر تم اسے چھوڑ چکے ہو تو تم گمراہ ہوچکے ہو راوی فرماتے ہیں پھر ایک حلقہ میں تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا بلا شبہ ہم لوگ قرآن پڑھنے سے پہلے ایمان لائے اور آئندہ کچھ لوگ ایمان لانے سے پہلے قرآن پڑھیں گے لوگوں مں ئ سے ایک صاحب نے عرض کیا یہ فتنہ ہوگا ارشاد فرمایا ہاں وہ تمہارے سامنے سے جہاں سے تم رنجیدہ ہو وہاں سے آئے گا پھر رش کی طرح (آہستہ آہستہ ہمیشگی کے ساتھ) آتا رہے گا۔ بلا شبہ کوئی آدمی اس سے لوٹے گا اور دو کاموں کا حکم دے گا ایک ان میں سے عجز اور دوسرا فسق و فجور ہے۔ حضرت خرشہ فرماتے ہیں (اس بات کے) تھوڑی ہی مدت کے بعد میں نے دیکھا ایک آدمی کو کہ وہ اپنی تلوار لے کر نکلا لوگوں کا پیچھا کرتا تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) مجهول؛ لجهالة المنذر بن هوذة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39921
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39921، ترقيم محمد عوامة 38293)