حدیث نمبر: 39920
٣٩٩٢٠ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا الصلت بن بهرام عن منذر بن هوذة عن خرشة عن حذيفة قال: كيف أنتم إذا انفرجتم عن دينكم كما تنفرج المرأة عن قبلها لا تمنع من يأتيها؟ قالوا: لا ندري، قال: لكني -واللَّه- أدري أنتم يومئذ بين عاجز وفاجر، فقال رجل من القوم: قبح العاجز عن ذاك، قال: فضرب ظهرَه حذيفة مرارا، ثم قال: (قبحت أنت، قبحت أنت) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت خرشہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا اس وقت جب تم اپنے دین کو ارزاں کردو گے جیسے ارزاں کردیتی ہے وہ عورت اپنی شرم گاہ کو جو اپنے پاس آنے سے کسی کو نہیں روکتی ، پھر لوگوں نے عرض کیا ہم نہیں جانتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں تم اس دن عاجز اور فاجر کے درمیان ہوگے۔ لوگوں میں سے ایک صاحب نے کہا یہ عاجز اس فاجر کے مقابلے میں بھلائی سے دور کیا جائے، راوی فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پشت پر کئی مرتبہ ماراتو بھلائی سے دور کیا جائے تو بھلائی سے دور کیا جائے۔

حواشی
(١) في [ع]: (أنت قبحت، أنت قبحت).
(٢) مجهول؛ لجهالة المنذر بن هوذة، وأخرجه الحاكم ٤/ ٥٠٦ (٨٤١٨).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39920
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39920، ترقيم محمد عوامة 38292)