حدیث نمبر: 39912
٣٩٩١٢ - حدثنا أبو معاوية وابن نمير وحميد بن عبد الرحمن، عن الأعمش، عن شقيق، عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند عمر فقال: أيكم يحفظ حديث رسول اللَّه ﷺ في الفتنة كما قال؟ (١) فقلت: أنا، قال: فقال: إنك لجريء، وكيف؟ قال: قلت: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "فتنة الرجل في أهله وماله ونفسه وجاره يكفرها الصيام والصدقة والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر"، فقال عمر: ليس هذا أريد، إنما أريد التي تموج (كـ) (٢) ــموج البحر، قال: قلت: مالك ولها يا أمير المؤمنين؟ إن بينك وبينها بابا مغلقًا، قال: (فيكسر) (٣) الباب، [أم يُفتح؟ قال: قلت: لا، بل يكسر، قال: (ذاك) (٤) أحرى أن لا يغلق أبدًا، قال: قلنا لحذيفة: هل] (٥) كان (عمر) (٦) يعلم من الباب؟ قال: نعم، كما أعلم أن غدا دون الليلة، ⦗٢٠١⦘ (إني حدثته) (٧) حديثًا ليس بالأغاليط، قال: فهبنا حذيفة أن نسأله: من الباب؟ فقلنا لمسروق: سله، فسأله فقال: عمر (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شقیق حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم حضرت عمر کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا تم میں کون ہے جسے فتنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ایسے ہی یاد ہے جیسے آپ نے ارشاد فرمائی میں نے عرض کیا کہ میں ہوں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر نے فرمایا یقینا تو جری ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسے ارشاد فرمایا میں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آدمی کے گھر اور مال اور اپنی ذات اور پڑوسی میں فتنہ اس کا کفارہ ہوجائے گا روزہ اور صدقہ اور اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا، حضرت عمر نے فرمایا میری یہ مراد نہیں ہے میری مراد تو وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح زور پر ہوگا راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ کو اس سے کیا غرض امیر المؤمنین بلا شبہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، حضرت عمر نے فرمایا کیا دروازہ توڑا جائے یا کھولا جائے گا راوی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا انہوں نے فرمایا یہ (دروازہ) زیادہ لائق ہے اس بات کے کہ اسے کبھی بند نہ کیا جائے۔ شقیق راوی کہتے ہیں ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر جانتے تھے دروازہ کون ہے انہوں نے فرمایا ہاں جیسے میں جانتا ہوں کہ صبح رات سے پہلے ہے میں نے ان سے حدیث بیان کی ہے نہ کہ مغالطہ آمیز باتیں راوی حضرت شقیق کہتے ہیں ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات کہ دروازہ کون ہے پوچھنے سے ڈر گئے ہم نے حضرت مسروق سے کہا آپ ان سے پوچھیں انہوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا حضرت عمر ۔

حواشی
(١) في [أ، ب، س، ع]: زيادة (قال).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [س، ص]: (فينكسر).
(٤) في [ع]: (ذلك).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [أ، ب، س، ع].
(٧) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39912
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٨٦)، ومسلم (١٤٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39912، ترقيم محمد عوامة 38284)