مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩١١ - حدثنا مروان بن معاوية عن عوف عن أبي المنهال سيار بن سلامة قال: لما كان زمن (أخرج) (١) ابن زياد (وثب) (٢) مروان بالشام حين وثب، ووثب ابن الزبير بمكة، ووثبت القراء بالبصرة؛ قال: قال أبو المنهال: غم أبي غما شديدًا، قال: وكان يثني على أبيه خيرًا، قال: قال لي أبي: أي بني! انطلق بنا إلى هذا الرجل من صحابة رسول اللَّه ﷺ. فانطلقنا إلى (أبي) (٣) (برزة) (٤) الأسلمي في يوم حار شديد الحر، وإذا هو جالس في ظل علوٍ له من قصب، فأنشأ أبي يستطعمه الحديث، فقال: يا أبا برزة! ألا ترى؟ ألا ترى؟ فكان أول شيء تكلم به، قال: (أما) (٥) إني أصبحت ساخطا على أحياء قريش، إنكم -معشر العرب- كنتم على الحال التي قد علمتم من قلتكم وجاهليتكم، وإن اللَّه (نعشكم) (٦) (بالإسلام) (٧) وبمحمد حتى بلغ بكم ما ترون، وإن هذه الدنيا هي التي قد أفسدت بينكم، إن ذاك الذي بالشام -يعني مروان- واللَّه إن يقاتل إلا على ⦗٢٠٠⦘ الدنيا، وإن ذاك الذي بمكة -يعني ابن الزبير- واللَّه إن يقاتل إلا على الدنيا وإن هؤلاء الذين حولهكم (تدعونهم قراءكم) (٨) واللَّه إن يقاتلون إلا على الدنيا. قال: فلما لم يدع أحدا قال له أبي: يا أبا برزة! ما ترى؟ قال: لا أرى اليوم خيرا من عصابة ملبدة، خماص بطونهم من أموال الناس، خفاف ظهورهم من دمائهم (٩).حضرت ابو المنہال سیار بن سلامہ روایت کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ جس زمانے میں ابن زیاد کو نکالا گیا تو مروان نے شام پر اور حضرت عبداللہ بن زبیر نے مکہ اور قراء نے بصرہ پر حملہ کیا اوف کہتے ہیں، ابو المنہال نے فرمایا میرے والد بہت زیادہ غمگین ہوئے اور راوی کہتے ہیں حضرت ابو المنہال اپنے والد کی اچھی تعریف کرتے تھے۔ ابو المنہال نے فرمایا مجھ سے میرے والد نے کہا کہ اے بیٹے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے اس آدمی کی طرف ہمیں لے چلو پس ہم نکلے حضرت ابو برزہ اسلمی کی طرف ایسے دن میں جو سخت گرمی والا تھا پس وہ بیٹھے ہوئے تھے بلند سایے میں جو ان کے لیے بانس سے بنایا گیا تھا۔ پس شروع ہوئے میرے والد کہ ان سے گفتگو چاہتے تھے پس میرے والد نے کہا اے ابا برزہ ! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے ؟ پس پہلی بات جو انہوں نے کہی فرمایا میں قریش کے قبائل پر ناراض ہوں۔ یقینا اے عرب کے قبائل تم تھے اس قلت اور جاہلیت کی حالت پر جو تم جانتے ہو۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے بلند کیا یہاں تک کہ تم اس حالت پر پہنچ گئے جو تم دیکھ رہے ہو، اور یہ دنیا ہی ہے جس نے تمہارے درمیان فسادبرپا کردیا ہے۔ بیشک یہ جو شام میں ہیں ان کی مراد تھی مروان۔ بخدا نہیں وہ لڑائی کر رہا مگر دنیا کے لیے اور بیشک یہ جو تمہارے گرد ہیں جنہیں تم اپنے قراء کہتے ہو بخدا یہ بھی نہیں لڑ رہے مگر دنیا کے لیے۔ ابو المنہال راوی فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا تو ان سے میرے والد نے کہا کہ آپکی کیا رائے ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا میں تو آج اس جماعت سے بہتر کسی کو نہیں سمجھتا جو زمین سے چپکی ہوئی ہو ان کے پیٹ لوگوں کے مالوں سے خالی ہوں ان کی کمریں لوگوں کے خونوں کی ذمہ داری سے فارغ ہوں۔