مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٩٠٩ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن كرز بن علقمة الخزاعي قال: قال رجل: يا رسول اللَّه هل (للإسلام) (١) منتهى؟ قال: "نعم، أيما أهل بيت من العرب أو العجم أراد اللَّه بهم خيرا أدخل عليهم الإسلام"، قال: ثم مه؟ قال: "ثم الفتن تقع (كالظلل) (٢) تعودون فيها أساود (صبا) (٣)، يضرب بعضكم رقاب بعض". - والأسود الحية ترتفع ثم تنصب (٤).حضرت کرزبن علقمہ الخزاعی فرماتے ہیں ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا اسلام کے لیے انتہاء ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں کوئی بھی عرب یا عجم میں سے گھر والے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرمائیں گے ان پر اسلام کو داخل کردیں گے، انہوں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا ارشاد فرمایا : پھر فتنے ہوں گے جو بادلوں کی طرح وقوع پذیر ہوں گے تم ان میں ڈسنے والے ناگ بن کر لوٹو گے ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے، کالا سانپ سر اٹھاتا ہے پھر ڈسنے کے لیے (شکار) پر گرتا ہے۔