حدیث نمبر: 39906
٣٩٩٠٦ - حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي عن أبي عمران الجوني عن عبد اللَّه بن الصامت عن أبي ذر قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "يا أبا ذر! أرأيت إن اقتتل الناس حتى تغرق حجارة الزيت من الدماء كيف أنت صانع؟ " قال: قلت: اللَّه ورسوله أعلم، قال (١): "تدخل ييتك"، قال: قلت: (أفأحمل) (٢) السلاح؟ قال: " (إذن) (٣) (شأنك) (٤) " قال: قلت: فما أصنع يا رسول اللَّه؟ قال: "إن خفت أن يغلب شعاع (الشمس) (٥) فألق من ردائك على وجهك يبوء بإثمك وإثمه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ بن صامت حضرت ابو ذر سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو ذر مجھے بتاؤ تو سہی اگر لوگ لڑائی کریں یہاں تک کہ (مقام) حجارۃ الزیت خون سے ڈوب جائے تو تو کیا کرنے والا ہوگا حضرت ابو ذر کہتے ہیں میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنے گھر میں داخل ہوجانا حضرت ابو ذر فرماتے ہیں میں نے عرض کیا، کہ کیا میں اسلحہ اٹھاؤں آپ نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم بھی شریک ہوجاؤ گے، حضرت ابو ذرکہتے ہیں میں نے عرض کیا میں کیا کروں، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہیں خوف ہو کہ سورج کی شعاعیں تم پر غالب آجائیں گی تو اپنے چہرے پر اپنی چادر ڈال لینا وہ لوٹے گا تمہارے گناہ اور اپنے گناہ کو لے کر۔ (مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی گھر میں آکر بھی حملہ کرے تو جواب نہ دینا وہ حملہ آور ہی وبال کے ساتھ لوٹے گا)

حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (قلت).
(٢) في [أ، ب]: (أن أحمل)، وفي [ع]: (أو أحمل).
(٣) في [أ، ب]: (إن).
(٤) في [أ، جـ، ع]: (شأنك).
(٥) في مصادر التخريج: (السيف).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39906
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢١٤٤٥)، وأبو داود (٤٢٦١)، وابن ماجه (٣٩٥٨)، وابن حبان (٥٩٦٠)، والحاكم ٤/ ٤٢٤، وعبد الرزاق (٢٠٧٢٩)، والبزار (٣٩٥٨)، والطيالسي (٤٥٩)، والبغوي (٤٢٢٠)، والبيهقي ٨/ ١٩١، والمزي ٢٨/ ٩، والخلال في السنة (١٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39906، ترقيم محمد عوامة 38278)