مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 39903
٣٩٩٠٣ - حدثنا علي بن مسهر وأبو معاوية عن عاصم عن أبي كبشة السدوسي عن أبي موسى قال: خطبنا (١) فقال: "ألا وإن من ورائكم فتنا كقطع الليل المظلم، يصبح (الرجل) (٢) فيها مؤمنا ويمسي كافرا، ويصبح كافرا ويمسي مؤمنا، القاعد فيها خير من القائم، والقائم خير من الماشي، والماشي خير من الراكب"، قالوا: فما تأمرنا؟ قال: "كونوا (أحلاس) (٣) البيوت" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا پس فرمایا خبردار ہو یقینا تمہارے سامنے فتنے ہیں اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ان میں آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو کافر اور صبح کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا، ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور پیدل چلنے والا سوار سے بہتر ہوگا، صحابہ کرام j نے عرض کیا آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہوجانا گھروں کے ٹاٹ۔
حواشی
(١) في [س]: زيادة (رسول اللَّه ﷺ).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [س]: (أجلاس).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي كبشة السدوسي، أخرجه هناد في الزهد (١٢٣٧)، وأخرجه مرفوعًا أحمد (١٩٦٦٢)، وأبو داود (٤٢٦٢)، وابن ماجه (٣٩٦١)، وابن حبان (٥٩٦٢)، والحاكم ٤/ ٤٤٠، والطبراني في الأوسط (٨٥٥٨)، والبيهقي ٨/ ١٩١.