مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
حدیث نمبر: 39900
٣٩٩٠٠ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن حميد بن هلال عن (حجير) (١) بن الربيع قال: قال لي عمران بن حصين: ائت قومك فانههم أن يخفوا في هذا الأمر، فقلت: إني فيهم (لمغمور) (٢) و (لما) (٣) أنا فيهم بالمطاع، (٤) فأبلغهم عني لأن أكون عبدا حبشيا في أعنز (حضنيات) (٥) أرعاها في رأس جبل حتى يدركني الموت أحب إليَّ (من) (٦) أن أرمي في واحد من الصفين بسهم أخطأت أو أصبت (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجیربن الربعو فرماتے ہیں مجھ سے حضرت عمر ان بن حصین نے فرمایا اپنی قوم کے پاس جاؤ اور ان کو اس معاملے میں جلدی کرنے سے روکو میں نے عرض کیا میں ان میں مامور ہوں اور میں ان میں امیر نہیں ہوں حضرت عمران بن حصین نے فرمایا انہیں میری جانب سے یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر میں ایک حبشی غلام ہوں عیب دار ہوں بھیڑوں کو چراؤں ایک پہاڑ کی چوٹی میں یہاں تک کہ مجھے موت آجائے یہ بات مجھے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں دونوں صفوں میں سے کسی ایک میں تیر ماروں چاہے درستگی تک پہنچ جاؤں یا غلطی پر ہوں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، س، ع]: (حجر).
(٢) في [ط، ع، هـ]: (لغموز).
(٣) في [ع]: (ما).
(٤) الآتي من كلام عمران.
(٥) نسبة لجبل حضن، وفي [أ، هـ]: (حصبات)، وفي [جـ]: (حصيات).
(٦) سقط من: [أ، ب].