مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٨٩٨ - حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا يونس بن أبي إسحاق عن هلال ابن خباب (قال: حدثني عكرمة) (١) قال: حدثني عبد اللَّه بن عمرو قال: بينا نحن حول رسول اللَّه ﷺ (إذ ذكر) (٢) الفتنة أو ذكرت عنده، قال: فقال: "إذا رأيت الناس مرجت عهودهم وخفت أماناتهم، وكانوا هكذا" -وشبك بين أصابعه- قال: فقمت إليه فقلت: كيف أفعل (عند) (٣) ذلك؟ جعلني اللَّه فداءك، قال: فقال لي: "الزم بيتك وأمسك عليك لسانك وخذ بما تعرف وذر ما تنكر، وعليك بخاصة نفسك، وذر عنك أمر العامة" (٤).حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد تھے جب آپ نے فتنے کا تذکرہ کیا یا آپ کے پاس اس کا تذکرہ کیا گیا۔ فرماتے ہیں آپ نے فرمایا : جب تو لوگوں کو دیکھے کہ ان کے وعدے خراب ہوجائیں اور امانتیں ہلکی ہوجائیں اور وہ ہوجائیں اس طرح اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا، راوی فرماتے ہیں میں آپ کی طرف کھڑا ہوا میں نے عرض کیا اس وقت میں کیسے کروں اللہ مجھے آپ پر قربان کرے فرماتے ہیں مجھ سے آپ نے ارشاد فرمایا : اپنے گھر کو لازم پکڑنا اور اپنی زبان کو روک کر رکھنا جو جانتے ہو وہ لے لینا اور جو نہیں جانتے وہ چھوڑ دینا اور تم پر لازم ہے خاص طور پر تمہاری ذات اور عامۃ الناس کے معاملے کو چھوڑ دینا۔