حدیث نمبر: 39897
٣٩٨٩٧ - حدثنا أبو أسامة عن سليمان بن المغيرة قال: قال حميد: حدثنا نصر ابن عاصم الليثي (عن اليشكري) (١) قال: سمعت حذيفة يقول: كان رسول اللَّه ﷺ يسأله الناس عن الخير وكنت أسأله عن الشر، (وعرفت) (٢) أن الخير لن يسبقني، قال: قلت: يا رسول اللَّه! هل بعد هذا الخير من شر؟ قال: "يا حذيفة! تعلم كتاب اللَّه واتبع ما فيه"، -ثلاثًا، (قال: قلت: يا رسول اللَّه! هل بعد هذا الخير شر؟ قال: "فتنة وشر") (٣)، قال: قلت: يا رسول اللَّه هل بعد هذا الشر خير؟ قال: "يا حذيفة تعلم كتاب اللَّه واتبع ما فيه" -ثلاث مرار، قال: قلت: يا رسول اللَّه! هل بعد هذا الخير (شر؟) (٤) قال: "فتنة عمياء صماء، عليها دعاة على أبواب النار، فأن (تموتَ) (٥) ⦗١٩٤⦘ يا حذيفة وأنت عاض على (جذر) (٦) خير من أن تتبع أحدا منهم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت یشکری فرماتے ہیں میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھلائی کے بارے میں پوچھتے تھے اور میں آپ سے برائی کے بارے میں پوچھتا تھا اور میں پہچان چکا تھا کہ خیر مجھ سے ہرگز نہیں بڑھے گی راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حذیفہ رضی اللہ عنہاللہ کی کتاب سیکھو اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرو تین مرتبہ (فرمایا) راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا اس برائی کے بعد بھلائی ہوگی ارشاد فرمایا اے حذیفہ رضی اللہ عنہاللہ کی کتاب سیکھو اور جو اس میں ہے اس کی پیروی کرو تین مرتبہ فرمایا میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول کیا اس خیر کے بعد برائی ہوگی ارشاد فرمایا : اندھا اور بہرا فتنہ ہوگا اس پر قائم ہوں گے جہنم کے دروازوں کی طرف دعوت دینے والے اے حذیفہ رضی اللہ عنہاگر تمہیں موت آئے اس حال میں کہ تم درخت کے تنے کو کھانے والے ہو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم ان میں سے کسی کی پیروی کرو۔

حواشی
(١) زيادة من مصادر التخريج، وهكذا سيأتي ١٥/ ١٧ برقم [٣٩٩١٦].
(٢) في [أ، ب]: (فعرفت).
(٣) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٤) سقط من. [أ، ب، جـ، س].
(٥) في [ع]: (تمت).
(٦) في [هـ]: (جذل).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39897
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ اليشكري صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٢٨٢)، وأبو داود (٤٢٤٦)، والنسائي في الكبرى (٨٠٣٢)، وابن ماجه (٣٦٨١)، وابن حبان (٥٩٦٣)، وعبد الرزاق (٢٠٧١١)، والطيالسي (٤٤٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٥٧١، والبغوي (٤٢١٩)، وأصله عند البخاري (٣٦٠٦)، ومسلم (١٨٤٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39897، ترقيم محمد عوامة 38269)