حدیث نمبر: 39894
٣٩٨٩٤ - حدثنا وكيع عن عثمان (الشحام) (١) قال: حدثنا مسلم (٢) بن أبي بكرة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنها ستكون فتنة! المضطجعُ فيها خيرٌ من الجالس، والجالس خير من القائم، والقائم خير من الماشي، والماشي خير من الساعي"، فقال رجل: يا رسول اللَّه (ما تأمرنا؟) (٣) قال: "من كانت له إبل فليلحق بإبله، ومن (كانت) (٤) له غنم فليلحق بغنمه، ومن كانت له أرض فليلحق بأرضه، ومن لم يكن له شيء من ذلك فليعمد إلى سيفه فليضرب بحده (على صخرة) (٥) ثم لينج إن استطاع النجاة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

ابو بکرہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک عنقریب ایک فتنہ ہوگا اس میں لیٹنے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور اس میں چلنے والا اس میں کوشش کرنے والے سے بہتر ہوگا۔ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس آدمی کے اونٹ ہوں وہ اپنے اونٹوں میں چلا جائے اور جس آدمی کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جائے اور جس آدمی کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں چلا جائے اور جس آدمی کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہ ہو تو وہ اپنی تلوار کا قصد کرے اور اس کی دھار پتھر کی چٹان پر مارے پھر نجات پاسکتا ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (الجسام).
(٢) في [ع]: زيادة (عن مسلم).
(٣) في [س، ع]: (فما تأمرني؟).
(٤) في [ع]: (كان).
(٥) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 39894
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عثمان صدوق، أخرجه مسلم (٢٨٨٧)، وأحمد (٢٠٤١٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39894، ترقيم محمد عوامة 38266)