مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفتن
من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها باب: جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
٣٩٨٩٢ - حدثنا أبو عبد الرحمن قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن عبد رب الكعبة، قال: انتهيت إلى عبد اللَّه بن عمرو وهو جالس في ظل الكعبة والناس عليه مجتمعون فسمعته يقول: بينما نحن مع رسول اللَّه ﷺ في سفر إذ نزلنا منزلًا، فمنا من يضرب خباءه، ومنا من ينتضل، ومنا من هو في جشره إذ نادى مناديه: الصلاة (جامعة) (١)، فاجتمعنا. فقام النبي ﷺ فخطبنا فقال: "إنه لم يكن نبي قبلي إلا كان (حقًا للَّه) (٢) عليه أن يدل أمته على ما هو خير لهم، وينذرهم ما يعلمه شرا لهم، وإن أمتكم هذه جُعلت (عافيتها) (٣) في أولها، وإن آخرها سيصيبهم بلاء وأمور (تنكرونها) (٤)؛ فمن ثمّ تجيء الفتنة، فيقول المؤمن: هذه مهلكتي، ثم تنكشف ثم تجيء الفتنة، فيقول المؤمن: هذه (٥)، (ثم) (٦) تنكشف، فمن سره منكم أن يُزحزح عن النار ويُدخل ⦗١٩٠⦘ الجنة فتدركه منيته وهو يؤمن باللَّه واليوم الآخر، وليأت (٧) الناس الذي يحب أن يأتوا إليه، ومن بايع إماما فأعطاه صفقة يده وثمرة قلبه فليطعه ما استطاع، فإن جاء (أحد) (٨) ينازعه فاضربوا عنق الآخر". (قال) (٩): (١٠) (فأدخلت) (١١) رأسي من بين الناس، فقلت: أنشدك باللَّه، أسمعت هذا من رسول اللَّه ﷺ؟ قال: فأشار بيديه إلى أذنيه: (١٢) (سمعتْهُ) (١٣) أذناي ووعاه قلبي، (قال) (١٤): قلت: هذا ابن عمك، يأمرنا أن نأكل أموالنا بيننا بالباطل وأن نقتل أنفسنا، وقد قال اللَّه (١٥): ﴿(١٦) وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ) (١٧)﴾ [البقرة: ١٨٨] (إلى آخر) (١٨) الآية، قال: فجمع يديه فوضعهما على جبهته ثم نكس هنيهة ثم قال: أطعه في طاعة اللَّه، واعصه في معصية اللَّه (١٩).حضرت عبدالرحمان بن عبد رب الکعبہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس گیا وہ خانہ کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے گرد جمع تھے۔ میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا پس کچھ ہم میں سے وہ تھے جو خیمے نصب کرنے لگے اور کچھ وہ تھے جو تیر اندازی میں مقابلہ کرنے لگے اور کچھ وہ جو اپنے مویشیوں (کی دیکھ بھال) میں (لگ گئے) تھے۔ ناگاہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناوی نے ندادی الصلوٰۃ جامعۃ پس ہم جمع ہوگئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا یقینا مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر اللہ کیلئے اس پر حق تھا کہ اپنی امت کی رہنمائی کرے اس بات کی طرف جو ان کے لیے بہتر ہو اور ڈرائے ان کو اس بات سے جس کے بارے میں جانتا ہو یہ ان کے لیے بری ہے۔ بیشک یہ تمہاری امت اس کی عافیت اس کے اول حصے میں ہے اور اس کے آخری حصے کو عنقریب پہنچیں گی، مصیبتیں اور ایسے امور جنہیں تم ناپسند سمجھتے ہو اس موقعے پر ایک فتنہ آئے گا مومن کہے گا، یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہوجائے گا۔ پھر فتنہ آئے گا پس مومن کہے گا یہ مجھے ہلاک کرنے والا ہے پھر وہ دور ہوجائے گا پس وہ شخص جسے پسند ہے تم میں سے کہ اسے آگ سے بچا لیا جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو اسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کرے جیسا وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے ساتھ کریں اور وہ شخص جس نے کسی امام کی بیعت کی اور اس کو ہاتھ کا معاملہ اور دل کا پھل دے دے تو جہاں تک ہو سکے وہ اس کی اطاعت کرے پس اگر کوئی اس سے جھگڑا کرے تو اس دوسرے کی گردن ماردو۔ راوی فرماتے ہیں میں نے داخل کیا اپنا سر لوگوں کے درمیان پس میں نے عرض کیا میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے راوی فرماتے ہیں انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اپنے کانوں کی طرف کہ میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد کیا راوی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یہ آپ کے چچا کے بیٹے ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم اپنے مالوں کو ناحق طریقے سے کھائیں اور یہ کہ اپنے آپ کو قتل کریں۔ حالا ن کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نہ کھاؤ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے پر اور ان (کے جھوٹے مقدمے) حکام کے یہاں اس غرض سے نہ لے جاؤ۔ آیت کے اخیر تک، راوی فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو نے اپنے دونوں ہاتھ جمع کیے اور ان دونوں کو اپنی پیشانی پر رکھا پھر کچھ دیر سر جھکایا پھر فرمایا : اس کی اطاعت کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اور اس کی نافرمانی کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں۔