حدیث نمبر: 39890
٣٩٨٩٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن (مجالد) (١) عن عامر قال: أول من بايع تحت الشجرة أبو سنان الأسدي وهب، أتى النبي ﷺ فقال (٢): أبايعك، (قال) (٣): "علام تبايعني؟ " قال: على ما في نفسك، قال: فبايعه، قال: وأتاه رجل آخر فقال: أبايعك على ما بايعك عليه أبو سنان فبايعه، ثم بايعه الناس (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عامر سے روایت ہے کہ درخت کے نیچے سب سے پہلے ابو سنان اسدی وھب نے بیعت کی تھی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ” تم کس بات پر میری بیعت کرتے ہو ؟ “ ابو سنان نے کہا۔ اس بات پر جو آپ کے دل میں ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بیعت کیا۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور اس نے کہا ۔ جس بات پر ابو سنان نے بیعت کی ہے میں بھی اس پر آپ کی بیعت کرتا ہوں۔ پس اس نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی ۔ پھر باقی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔

حواشی
(١) في [س]: (مجاهد).
(٢) في [س]: زيادة (له).
(٣) سقط من: [ع].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39890
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف مرسل؛ عامر الشعبي تابعي، ومجالد ضعيف، وأخرجه أحمد في الفضائل (١٦٨٩)، والعلل ٢/ ٣٣٦، وابن سعد ٢/ ١٠٠، والخلال في السنة (٣٦)، وابن جرير في التفسير ٢/ ٨٦٦، وأبو نعيم في الحلية ٤/ ٣١٥، وأبو عروبة في الأوائل (٦٥)، والدولابي في الكنى ١/ ١١١، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨٧)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ١٣٧، وأبو أحمد الحاكم في معرفة علوم الحديث ص ١٨٣، وابن عساكر ١٠/ ٤٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39890، ترقيم محمد عوامة 38262)