حدیث نمبر: 39886
٣٩٨٨٦ - حدثنا ابن نمير عن إسماعيل عن الشعبي قال: انطلق العباس مع النبي ﷺ إلى الأنصار فقال: تكلموا ولا (تطيلوا) (١) (الخطبة، إن) (٢) عليكم عيونا (وإني) (٣) أخشى عليكم كفار قريش، فتكلم رجل منهم يكنى أبا أمامة، وكان خطيبهم يومئذ وهو أسعد بن زرارة، فقال للنبي ﷺ: سلنا لربك وسلنا لنفسك وسلنا لأصحابك، وما الثواب على ذلك؟ فقال النبي ﷺ: " (أسألكم) (٤) لربي أن تعبدوه ولا تشركوا به شيئًا، ولنفسي أن تؤمنوا بي وتمنعوني مما (تمنعون) (٥) منه أنفسكم وأبناءكم، ولأصحابي المواساة في ذات أيديكم"، قالوا: فما لنا إذا فعلنا ذلك؟ قال: "لكم على اللَّه الجنة" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت عباس ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ انصار کی طرف چل کر آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” بات کرو لیکن گفتگو لمبی نہ کرنا۔ تم پر جاسوس متعین ہیں اور مجھے تمہارے بارے میں قریش کے کفار سے خوف ہے “ پس ان میں سے ایک آدمی … جس کی کنیت ابو امامہ تھی … اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ آپ ہم سے اپنے رب کے لئے سوال کریں، آپ ہم سے اپنے لئے سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے لئے سوال کریں۔ اور (یہ بتائیں کہ) اس پر کیا ثواب ملے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” میں تم سے اپنے رب کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اور اپنے لئے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم مجھ پر ایمان لاؤ اور مجھ سے ان چیزوں کو روکو جن چیزوں کو تم اپنے اور اپنے بیٹوں سے روکتے ہو۔ اور اپنے ساتھیوں کے لئے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے اموال میں ہمدردی کرو “ انصار نے پوچھا۔ جب ہم یہ سب کچھ کریں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ تمہارے لئے اللہ پر جنت واجب ہے۔

حواشی
(١) في [س]: (تطيعوا).
(٢) في [ع]: (الخطبتان).
(٣) في [س]: (وإلى).
(٤) في [ع]: (أسلكم)، وفي [س]: (أسليكم).
(٥) في [ع]: (تمتعون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39886
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه أحمد ٤/ ١١٩ (١٧١١٩)، وابن سعد ٤/ ١١٩، والبيهقي في الدلائل ٢/ ٤٥٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39886، ترقيم محمد عوامة 38258)