٣٩٨٨٥ - حدثنا عبد الرحيم عن (مجالد) (١) عن الشعبي عن عقبة بن عمرو الأنصاري قال: وعدنا رسول اللَّه ﷺ (أصل) (٢) العقبة يوم (الأضحى) (٣) ونحن سبعون رجلًا، قال (عقبة) (٤): إني من أصغرهم، (فأتانا) (٥) رسول اللَّه ﷺ فقال: "أوجزوا في الخطبة، فإني أخاف عليكم كفار قريش"، قال: قلنا: يا رسول اللَّه سلنا لربك، وسلنا لنفسك، وسلنا لأصحابك، وأخبرنا ما الثواب على اللَّه وعليك؟ فقال: " (أسألكم) (٦) لربي: أن تؤمنوا به ولا تشركوا به شيئًا، (وأسألكم) (٧) (لنفسي) (٨): أن تطيعوني (اهدكم) (٩) سبيل الرشاد، (وأسألكم) (١٠) لي ولأصحابي: أن تواسونا في ذات أيديكم، وأن (تمنعونا) (١١) مما (منعتم) (١٢) منه أنفسكم، مإذا فعلتم ذلك فلكم على اللَّه الجنة (وعليّ) (١٣) "، قال: فمددنا أيدينا (فبايعناه) (١٤) (١٥).حضرت عقبہ بن عمرو انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم الاضحی کو گھاٹی کی جڑ میں ہم لوگوں سے وعدہ لیا اور ہم لوگ ستر کی تعداد میں تھے … حضرت عقبہ کہتے ہیں۔ میں ان میں سب سے چھوٹا تھا … پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا۔ ” گفتگو مختصر کرو کیونکہ مجھے تم پر قریش کے کفار کا ڈر ہے۔ “ راوی کہتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ہم سے اپنے رب کے بارے میں سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے بارے میں کوئی سوال کریں اور آپ ہم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں کچھ سوال کریں اور ہمں ب بھی بتادیں کہ اللہ پر اور آپ پر (ہمارے لئے) کیا ثواب دینا لازم ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” میں اپنے رب کے بارے میں تم سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تم اس پر ایمان لاؤ اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور میں تم سے اپنے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم میری بات مانو میں تمہیں راہ ہدایت کی جانب راہ نمائی کروں گا۔ اور میں تم سے اپنے ساتھیوں کے بارے میں یہ سوال کرتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ اپنے مال میں ہمدردی کرو اور یہ کہ تم ہم سے ان چیزوں کو روکو جن کو تم خود سے روکتے ہو۔ پس جب تم لوگ یہ کچھ کرو گے تو پھر تمہارے لئے اللہ پر اور مجھ پر جنت واجب ہے۔ “ راوی کہتے ہیں پس ہم نے اپنے ہاتھ دراز کیے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔