مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں
٣٩٨٨١ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن (سالم) (١) عن (عبد) (٢) اللَّه بن سبيع قال: سمعت عليًا يقول: لتخضبن هذه من هذا -فما ينتظر بالأشقى، (قالوا) (٣): ⦗١٨٣⦘ (فأخبرنا) (٤) به (نبير عترته) (٥)، قال: إذا تاللَّه تقتلون غير قاتلي، قالوا: أفلا تستخلف، قال: لا، ولكني أترككم إلى ما ترككم إليه رسول اللَّه ﷺ، قالوا: فما (تقول) (٦) لربك إذا لقيته؟ قال: أقول: اللهم تركتني فيهم ثم قبضتني إليك وأنت فيهم، فإن شئت أصلحتهم، وإن (شئت) (٧) أفسدتهم (٨).حضرت عبد اللہ بن سبیع سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سُنا۔ ضرور بالضرور یہ (داڑھی) اس سے رنگ جائے گی۔ لوگوں نے کہا۔ آپ ہمیں اس کے (قاتل کے) بارے میں بتائیں ہم اس کے خاندان کو ہلاک کردیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ خدا کی قسم ! تب تو تم میرے قاتل کے علاوہ کو قتل کرو گے۔ لوگوں نے پوچھا۔ آپ خلیفہ مقرر کیوں نہیں کرتے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ میں تمہیں اسی طرح چھوڑ جاؤں گا جس طرح تمہیں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھوڑ گئے تھے۔ لوگوں نے پوچھا۔ تو پھر جب آپ اپنے پروردگار سے ملیں گے تو ان سے کیا کہیں گے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں کہوں گا۔ اے اللہ ! تو نے مجھے ان میں (ایک مدت) چھوڑے رکھا پھر تو نے مجھے اپنی طرف بلا لیا جبکہ تو خود ان میں موجود تھا۔ پس اگر تو چاہتا ان کو درست کردیتا اور اگر تو چاہتا تو ان کو خراب کردیتا۔