مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں
٣٩٨٨٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الأجلح عن الشعبي قال: اكتنف عبد الرحمن بن ملجم وشبيب الأشجعي عليا حين خرج إلى الفجر، فأما شبيب فضربه فأخطأه (وثبت) (١) سيفه في الحائط ثم (أحصر) (٢) نحو أبواب (كندة) (٣)، وقال الناس: عليكم صاحب السيف؛ فلما خشي أن يؤخذ رمى بالسيف ودخل في (عرض) (٤) الناس، وأما عبد الرحمن فضربه (بالسيف) (٥) على قرنه، (ثم) (٦) (احصر) (٧) نحو باب الفيل؛ فأدركه عريض أو عويض الحضرمي فأخذه فأدخله على علي، فقال علي: إن أنا مت فاقتلوه، (٨) إن شئتم أودعوه، وإن أنا نجوت كان القصاص (٩).حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ فجر کے لئے نکلے تو عبد الرحمن بن ملجم نے اور شبیب اشجعی نے آپ کو گھیر لیا۔ پس شبیب نے آپ پر وار کیا لیکن وہ خطا ہوگیا اور اس کی تلوار دیوار میں جا لگی پھر اس کو کندہ کے دروازوں کی طرف محصور کردیا گیا اور لوگ کہنے لگے۔ تلوار والے کو پکڑو پس جب شبیب نے پکڑے جانے کا خوف محسوس کیا تو اس نے تلوار پھینک دی اور عام لوگوں میں داخل ہوگیا۔ اور جو عبد الرحمان تھا اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر مبارک پر تلوار ماری پھر اس کو بھی باب الفیل کی جانب محصور کرلیا گیا اور اس کو عریض یا عویض حضرمی نے پکڑ لیا۔ پس اس کو پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لائے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اگر میں مر جاؤں تو تم چاہو تو اس کو قتل کردینا۔ یا اس کو چھوڑ دینا اور اگر میں بچ گیا تو پھر قصاص ہوگا۔