مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما جاء في) خلافة عثمان وقتله ﵁ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
٣٩٨٧٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن محمد بن سيرين قال: أشرف عليهم عثمان من القصر فقال: ائتوني برجل أتاليه كتاب اللَّه، فأتوه ⦗١٨٠⦘ بمصعصعة بن صوحان وكان شابًا، فقال: أما وجدتم أحدا (تأتونى) (١) به غير هذا الشاب؟ قال: فتكلم صعصعة بكلام، فقال له عثمان: اتل (فقال) (٢): ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (وَإِنَّ) (٣) اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾، فقال: كذبت، ليست لك ولا لأصحابك، ولكنها لي ولأصحابي ثم تلا عثمان: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ حتى بلغ ﴿(وَلِلَّهِ) (٤) عَاقِبَةُ الْأُمُورِ﴾ [الحج: ٣٩ - ٤١] (٥).حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے گھر سے باغیوں کو جھانک کر دیکھا اور فرمایا ۔ تم میرے پاس کوئی آدمی لاؤ جس سے میں اللہ کی کتاب پڑھواؤں۔ پس باغی صعصعہ بن صوحان کو لے آئے۔ یہ ایک جوان آدمی تھا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ کیا تم نے اس نوجوان کے علاوہ کوئی آدمی نہیں پایا جس کو تم میرے پاس لائے ۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر صعصعہ نے کوئی گفتگو کی۔ تو حضرت عثمان نے اس سے کہا۔ قرآن پڑھ۔ اس نے پڑھا۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے فرمایا۔ تو جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ آیت تیرے اور تیرے ساتھیوں کے حق میں نہیں ہے بلکہ یہ آیت تو میرے اور میرے ساتھیوں کے لئے ہے۔ پھر حضرت عثمان نے تلاوت کی۔ { أُذِنَ لِلَّذِینَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا ، وَإِنَّ اللَّہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ} حضرت عثمان نے یہاں تک پڑھا۔ { وَإِلَی اللہِ عَاقِبَۃُ الأُمُورِ }۔