حدیث نمبر: 39866
٣٩٨٦٦ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عبد اللَّه بن الزبير [قال: قلت لعثمان يوم الدار: اخرج فقاتلهم فإن معك من قد نصر اللَّه بأقل منه، واللَّه (إن قتالهم) (١) لحلال، قال: فأبى وقال: من كان لي عليه سمع وطاعة فليطع عبد (اللَّه) (٢) بن الزبير] (٣)، وكان أمره يومئذ على الدار، وكان يومئذ صائمًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں۔ میں نے محاصرہ کے دن حضرت عثمان سے کہا۔ آپ باہر آئیں اور ان لوگوں سے لڑائی کریں۔ کیونکہ آپ کے ہمراہ (آج اتنے) لوگ ہیں کہ جن سے کم تعداد کی اللہ پاک نے مدد کی تھی۔ اور خدا کی قسم ! ان لوگوں سے لڑنا حلال ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان نے انکار فرمایا اور حکم دیا ۔ جو آدمی خود میر ی سمع وطاعت کو واجب سمجھتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ عبد اللہ بن زبیر کی اطاعت کرے ۔ حضرت عثمان نے اس (محاصرے کے) دن ان کو گھر میں امیر مقرر فرمایا تھا اور حضرت عثمان اس (محاصرہ کے) دن روزہ کی حالت میں تھے۔

حواشی
(١) في [ق، هـ]: (أنه).
(٢) سقط من: [س].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39866
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39866، ترقيم محمد عوامة 38238)