مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما جاء في) خلافة عثمان وقتله ﵁ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
٣٩٨٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن عبد الملك بن أبي سليمان قال: سمعت أبا ليلى الكندي قال: رأيت عثمان اطلع إلى الناس وهو محصور فقال: أيها الناس! لا تقتلوني (واستعتبوني) (١)، (فواللَّه) (٢) لئن قتلتموني لا (تقاتلون) (٣) جميعا أبدا، ولا تجاهدون عدوا أبدا، ولتختلفن حتى تصيروا هكذا -وشبك بين أصابعه، ﴿وَيَاقَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ (قَوْمَ) (٤) هُودٍ أَوْ قَوْمَ ⦗١٧٦⦘ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْكُمْ بِبَعِيدٍ﴾ [هود: ٨٩]، قال: وأرسل إلى عبد اللَّه بن سلام فسأله فقال: الكف الكف، فإنه أبلغ لك في الحجة، فدخلوا عليه فقتلوه (٥).حضرت ابو لیلی کندی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عثمان کو دیکھا کہ انہوں نے لوگوں کی طرف جھانکا … جبکہ وہ محصور تھے… اور فرمایا … اے لوگو ! مجھے قتل نہ کرو بلکہ تم مجھ سے رضا مندی اور خوشنودی چاہو۔ خدا کی قسم ! اگر تم نے مجھے قتل کردیا تو پھر کبھی تم لوگ اکٹھے ہو کر جہاد نہیں کرو گے۔ اور کبھی دشمن کے خلاف اکٹھے ہو کر لڑ نہیں سکو گے۔ اور تم اس حالت میں پیچھے رہ جاؤ گے کہ تم یوں ہو جاؤ گے۔ حضرت عثمان نے اپنی انگلیاں، انگلیوں میں داخل کیں۔ اور آیت پڑھی { وَیَا قَوْم لاَ یَجْرِ مَنَّکُمْ شِقَاقِی أَنْ یُصِیبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ ، أَوْ قَوْمَ ہُودٍ ، أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ، وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِنْکُمْ بِبَعِیدٍ } راوی کہتے ہیں : حضرت عثمان نے حضرت عبد اللہ بن سلام کی طرف قاصد بھیج کر ان سے (اس معاملہ) میں پوچھا۔ انہوں نے فرمایا۔ رُکے رہو۔ رُکے رہو۔ کیونکہ یہ رویہ تمہارے حق میں خوب حجت ہوگا۔ چناچہ یہ باغی لوگ حضرت عثمان کے پاس داخل ہوئے اور انہیں قتل کردیا۔