مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما جاء في) خلافة عثمان وقتله ﵁ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
٣٩٨٦٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن الحسن قال: أنبأني وثاب (وكان) (١) ممن أدركه عتق أمير المؤمنين عمر، وكان (يكون) (٢) بعد بين يدي عثمان، قال: فرأيت في حلقه (٣) طعنتين، كأنهما كيتان طعنهما يوم الدار دار عثمان، قال: بعثني أمير المؤمنين عثمان، قال: ادع لي الأشتر فجاء، قال ابن عون: أظنه قال: فطرحت لأمير المؤمنين وسادة (٤). ⦗١٧٤⦘ فقال: يا أشتر! ما يريد الناس مني؟ قال: ثلاثًا ليس (٥) من إحداهن بد، يخيرونك بين أن تخلع لهم أمرهم وتقول: هذا أمركم، اختاروا له من شئتم، وبين أن تقص من نفسك، فإن أبيت (هاذين) (٦) فإن القوم (قاتلوك، قال: ما من إحداهن بد؟ قال: ما من إحداهن بد، قال: أما) (٧) أن أخلع لهم أمرهم فما كنت أخلع سربالا (سربلنيه) (٨) اللَّه ﷿ أبدا. قال ابن عون: وقال غير الحسن: لأن أقدم فيضرب عنقي أحب إلي من أن اخلع أمر أمة محمد (٩) بعضها عن بعض، قال ابن عون: (وهذا أشبه) (١٠) بكلامه. (ولأن) (١١) أقص لهم من نفسي، فواللَّه لقد علمت، أن صاحبي بين يدي كانا يقصان من (أنفسهما) (١٢)، وما يقوم بدني بالقصاص، وأما أن يقتلوني، فواللَّه لو قتلوني لا يتحابون بعدي أبدا، ولا يقاتلون بعدي عدوا جميعا أبدا، قال: فقام الأشتر وانطلق، فمكثنا فقلنا: لعل الناس. ثم جاء (رويجل) (١٣) كأنه (ذئب) (١٤) (فاطلع) (١٥) من الباب، ثم رجع ⦗١٧٥⦘ (وقام) (١٦) محمد بن أبي بكر في ثلاثة عشر حتى انتهى إلى عثمان، فأخذ بلحيته فقال: بها حتى سمعت وقع أضراسه، وقال: ما أغنى عنك معاوية، ما أغنى عنك ابن عامر، ما (أغنت) (١٧) عنك كتبك، فقال: أرسل لي لحيتي ابن أخي، أرسل لي لحيتي ابن أخي، قال: فأنا رأيته (١٨) استعدى رجلا من القوم (يُعينه) (١٩)، فقام إليه بمشقص حتى وجأ به في رأسه (فاثبته) (٢٠)، (قال) (٢١): ثُمّ (مَهْ؟) (٢٢) (قال) (٢٣): ثم دخلوا عليه حتى قتلوه (٢٤).حسن سے روایت ہے کہ مجھے وثَّاب نے بیان کیا ۔ اور یہ وثاب راوی کہتے ہیں ۔ میں نے اس کے حلق میں تیر کے دو نشانات تھے۔ حضرت عثمان کے گھر میں محاصر ہ کے دن یہ نیزے انہیں مارے گئے تھے۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے امیر المؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا اور فرمایا : اشتر کو میرے پاس لاؤ ۔ ابن عون کہتے ہیں : میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا۔ کہ اس نے امیر المؤمنین کے پاس تکیہ چھوڑ دیا۔ اور اس کے پاس تکیہ تھا۔ پس حضرت عثمان نے فرمایا۔ اے اشتر ! (باغی) لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں ؟ اشتر نے کہا ۔ تین باتیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا کرنا ضروری ہے۔ وہ لوگ آپ کو اس بات کا اختیار دیتے ہیں کہ یا تو آپ ان کی حکمرانی ان کے حوالہ کردیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ تمہاری حکمرانی ہے تم جس کو چاہو یہ حکمرانی سونپ دو ۔ اور یا یہ ہے کہ آپ اپنے سے بدلہ لینے کا موقع دیں۔ پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو پھر لوگ آپ سے لڑیں گے۔ حضرت عثمان نے پوچھا۔ کیا ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے ؟ اشتر نے کہا (جی) ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ ٢۔ حضرت عثمان نے فرمایا۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں ان کی حکمرانی کی ذمہ داری چھوڑ دوں۔ تو (سنو) میں وہ کبھی کرتا نہیں اتاروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنایا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں۔ حسن کے علاوہ دوسرا راوی بیان کرتا ہے کہ : اگر مجھے یوں پیش کیا جائے کہ میری گردن اڑا دی جائے تو بھی مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ لوگوں کے درمیان چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں : یہ بات آپ کے کلام سے ملتی جلتی ہے۔ اور رہی یہ بات کہ میں لوگوں کو خود سے بدلہ لینے کا موقع دوں تو خدا کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ مجھ سے پہلے میرے دو ساتھی (لوگوں کو) اپنے آپ سے بدلہ لینے کا موقع دیتے تھے۔ لیکن میرا جسم قصاص کے لئے کھڑا نہیں ہوگا۔ اور یہ بات کہ لوگ مجھے قتل کریں گے تو خدا کی قسم (یاد رکھو) اگر وہ لوگ مجھے قتل کردیں تو پھر میرے بعد کبھی آپس میں محبت نہیں کرسکیں گے۔ اور نہ ہی میرے بعد دشمن کے خلاف کبھی سارے اکٹھے ہو کر جہاد کرسکیں گے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اشتر اٹھ کر چل پڑا۔ ہم وہیں ٹھہرے اور ہم کہنے لگے۔ ہوسکتا ہے کہ لوگ واپس پیچھے چلے جائیں۔ پھر رویجل آیا ۔ یوں لگتا تھا کہ وہ بھیڑیا ہے۔ اور اس نے دروازے سے جھانکا اور واپس ہوگیا۔ پھر محمد بن ابی بکر تیرہ افراد کے ہمراہ کھڑا ہوا اور حضرت عثمان کے پاس پہنچا اور آپ کی داڑھی کو پکڑ لیا اور وہ کہہ رہا تھا۔ تمہیں معاویہ نے کوئی فائدہ نہیں دیا ! تمہیں ابن عامر نے کوئی فائدہ نہیں دیا ! تمہیں تمہارے لشکروں نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ اے بھتیجے ! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ اے بھتیجے ! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ ٤۔ راوی کہتے ہیں : میں نے اس کو دیکھا کہ اس نے (اپنی) قوم میں سے ایک آدمی سے مدد مانگی تو اس کے پاس ایک آدمی چوڑے پھل والا نیزہ لے کر آیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت عثمان کے سر پر زور لگا کر اس کو آپ کے سر میں اتار دیا۔ راوی (سے) پوچھا۔ پھر کیا ہوا ؟ راوی نے جواب دیا۔ پھر یہ باغی حضر ت عثمان پر داخل ہوئے اورا نہیں قتل کردیا۔