مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
(ما جاء في) خلافة عثمان وقتله ﵁ باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
٣٩٨٦١ - حدثنا أبو أسامة عن كهمس عن عبد اللَّه بن شقيق قال: حدثني هرم بن الحارث وأسامة بن (خريم) (١) قال: (وكانا) (٢) (يغازيان) (٣) فحدثاني (جميعا) (٤) ولا يشعر كل واحد منهما أن صاحبه حدثنيه، عن مرة (البهزي) (٥)، قال: بينما نحن مع رسول اللَّه ﷺ ذات يوم في طربق من طرق المدينة فقال: "كيف تصنعون في فتنة تثور في أقطار الأرض كأنها صياصي بقر؟ " قالوا: فنصنع ماذا يا نبي اللَّه؟ قال: "عليكم بهذا وأصحابه"، قال: فأسرعت حتى عطفت على الرجل، فقلت: هذا (يا) (٦) نبي اللَّه؟ قال: "هذا؟، فإذا هو عثمان (٧).حضرت مرہ خریم سے روایت ہے کہ ہم ایک دن مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تم اس فتنہ میں کیا کرو گے جو زمین کے اطراف میں یوں پھیل جائے گا جیسے گائے کے سینگ ہوتے ہیں۔ “ صحابہ نے پوچھا ۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پھر ہم کیا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کو اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑنا۔ “ راوی کہتے ہیں : پس میں (یہ سن کر) اس آدمی پر جلدی سے لپٹا اور میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ آدمی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہی “ اور یہ شخص حضرت عثمان تھے۔