حدیث نمبر: 39856
٣٩٨٥٦ - حدثنا ابن نمير عن يحيى (بن سعيد) (١) عن القاسم أن عمر حيث طعن جاء الناس يثنون عليه ويدعون له، فقال عمر ﵀: (أبالإمارة) (٢) (تزكونني؟) (٣) لقد صحبت رسول اللَّه ﷺ فقبض وهو عني راض، (وصحبت) (٤) أبا بكر فسمعت وأطعت، فتوفي أبو بكر وأنا سامع مطيع، وما أصبحت أخاف على نفسي إلا إمارتكم (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قاسم سے روایت ہے ۔ کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو لوگ (آپ کے پاس) آ کر آپ کی تعریف کرنے لگے اور آپ کے لئے دعا کرنے لگے تو حضرت عمر نے ان سے کہا۔ کیا تم لوگ خلافت کی بنیاد پر مجھے پاکیزہ سمجھ رہے ہو ؟ تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت اختاکر کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حالت میں دنیا سے تشریف لے گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے خوش تھے پھر میں نے حضرت ابوبکر کی صحبت اختیار کی اور میں نے آپ کا حکم سُنا اور مانا پھر آپ کی وفات بھی اس حالت میں ہوئی کہ میں آپ کی بات سننے اور ماننے والا تھا۔ اور مجھے تو اپنے آپ پر صرف تمہاری امارت ہی کا خوف ہے۔

حواشی
(١) في [جـ]: بياض.
(٢) في [ب]: (أبا إمارة).
(٣) في [ع]: (تذكوني).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [ق، هـ]: زيادة (هذه).
(٦) منقطع؛ القاسم لم يدرك عمر، أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٥٥.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39856
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39856، ترقيم محمد عوامة 38228)