مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
حدیث نمبر: 39852
٣٩٨٥٢ - حدثنا ابن نمير عن سفيان عن الأسود بن قيس عن عبد اللَّه بن الحارث الخزاعي قال: سمعت عمم يقول في خطبته: إني رأيت البارحة ديكا نقرني، ورأيته (يجليه) (١) الناس عني، وإني أقسم باللَّه لئن بقيت لأجعلن سفلة المهاجرين في العطاء على ألفين ألفين، فلم يمكث إلا ثلاثًا حتى قتله غلام المغيرة: أبو لؤلؤة (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن الحارث خزاعی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر کو ان کے خطبہ میں یہ کہتے سُنا کہ : میں نے گزشتہ رات (خواب میں) ایک مرغ کو دیکھا کہ وہ مجھے ٹھونگ مار رہا ہے اور میں نے اس کو دیکھا کہ لوگ اس کو مجھ سے دور کر رہے ہیں۔ اور میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر میں باقی رہا تو میں ضرور بالضرور عام مہاجرین کو بھی دو دو ہزار عطیہ دوں گا۔ لیکن تین دن ہی گزرے تھے کہ آپ کو حضرت مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لؤلؤ نے قتل کردیا۔
حواشی
(١) في [س]: (يخليه).