مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٥١ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم التيمي عن عمرو بن ميمون قال: كنت أدع الصف الأول هيبة لعمر، وكنت في الصف الثاني يوم أصيب؛ فجاء فقال: الصلاة (عباد) (١) اللَّه، استووا، قال: فصلى بنا فطعنه أبو لؤلؤة طعنتين أو ⦗١٦٥⦘ (ثلاثًا) (٢)، قال: وعلى عمر ثوب (أصفر) (٣)، قال: (فجمعه) (٤) على صدره ثم أهوى وهو يقول: ﴿وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَرًا مَقْدُورًا﴾ [الأحزاب: ٣٨]، فقتل وطعن اثني عشر أو ثلاثة عشر، قال: (ومال) (٥) الناس عليه فاتكأ على خنجره فقتل نفسه (٦).حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر کی ہیبت کی وجہ سے پہلی صف کو چھوڑ دیتا تھا۔ جس دن حضرت عمر پر حملہ ہوا اس دن میں دوسری صف میں تھا۔ حضرت عمر تشریف لائے اور فرمایا۔ اے بندگانِ خدا ! نماز، (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی۔ کہ ابو لؤلؤ نے آپ پر دو یا تین وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر نے زرد کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس آپ نے اس کپڑے کو اپنے سینے کی طرف اکٹھا کرلیا پھر آپ نے اشارہ کیا اور آپ فرما رہے تھے۔ { وَکَانَ أَمْرُ اللہِ قَدَرًا مَقْدُورًا } پھر اس نے مزید بارہ یا تیرہ لوگوں کو قتل کیا اور وار کئے۔ راوی کہتے ہیں۔ لوگ اس قاتل کی طرف بڑھے تو اس نے اپنے خنجر پر تکیہ لگا کر اپنے آپ کو قتل کرلیا۔