مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
حدیث نمبر: 39850
٣٩٨٥٠ - حدثنا أبو أسامة عن هشام بن (عروة) (١) عن أبيه عن سليمان بن يسار عن المسور بن مخرمة قال: دخلت أنا وابن عباس على عمر بعد ما طعن وقد أغمي عليه، فقلنا لا ينتبه [(لشيء) (٢) (أفزع) (٣) له من الصلاة، فقلنا: الصلاة يا أمير المؤمنين] (٤)، فانتبه وقال: (الصلاة) (٥)، ولا حظ في الإسلام لامرئ قرك الصلاة، فصلى و (إن) (٦) جرحه ليثعب (٧) دما (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ میں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت عمر پر حملہ ہونے کے بعد جبکہ ان پر بےہوشی طاری تھی۔ داخل ہوئے۔ تو ہم نے کہا۔ ان کو نماز سے زیادہ گھبراہٹ میں ڈالنے والی کسی چیز سے نہیں بیدار کیا جاسکے گا۔ چناچہ ہم نے کہا۔ اے امیر المؤمنین ! نماز ! پس حضرت عمر متنبہ ہوئے اور فرمایا : نماز ! ایسے آدمی کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو نماز کو چھوڑ دے۔ پھر حضرت عمر نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ ان کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔
حواشی
(١) في [ي]: بياض.
(٢) في [س]: (بشيء).
(٣) في [أ، هـ]: (أفرغ).
(٤) في [ب]: ما بين المعكوفين بياض.
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [ي]: زيادة (لينبعث).