مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٤٩ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن ابن (ميناء) (١) عن (المسور) (٢) بن مخرمة قال: سمعت عمر وإن (إحدى) (٣) أصابعي في جرحه هذه أو هذه أو هذه، وهو يقول: يا معشر قريش! إني لا أخاف الناس عليكم، إنما أخافكم على الناس، إني قد تركت فيكم ثنتين (لن) (٤) تبرحوا بخير ما (لزمتموهما) (٥): العدل في الحكم، والعدل في القسم، وإني قد تركتكم (على ⦗١٦٤⦘ مثل) (٦) (مخرفة) (٧) النعم إلا أن يتعوج (قوم فيعوج) (٨) بهم (٩).حضرت مسور بن مخرمہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر کو کہتے سُنا…جبکہ میری انگلیوں میں سے ایک انگلی ان کے زخم کے اندر تھی … اے گروہ قریش ! میں تمہارے خلاف لوگوں سے خوف نہیں رکھتا بلکہ مجھے تو صرف لوگوں کے خلاف تم سے خوف ہے۔ یقینا میں دو چیزیں تم میں چھوڑ کر جا رہا ہوں جب تک تم ان کو لازم پکڑو گے تب تک مسلسل خیر پر رہو گے۔ فیصلہ کرنے میں عدل اور تقسیم کرنے میں عدل۔ اور یقینا میں تمہیں بالکل سیدھا چھوڑ کر جا رہا ہوں البتہ اگر کسی قوم نے ٹیڑھا راستہ اختیار کیا تو وہ ٹیڑھے راستے پر چل پڑیں گے۔