مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٤٧ - حدثنا أبو (الأحوص) (١) عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون قال: لما طعن عمر ماج الناس بعضهم في بعض، حتى كادت الشمس أن تطلع، فنادى مناد الصلاة، فقدموا عبد الرحمن بن عوف فصلى بهم، فقرأ بأقصر سورتين في القرآن ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ [الكوثر: ١] ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (٢)﴾ [النصر: ١]، فلما أصبح دخل عليه الطبيب، وجرحه يسيل دمًا، فقال: أي الشراب أحب إليك؟ قال: النبيذ، فدعا بنبيذ فشربه فخرج من جرحه، (فقال: هذا صديد، ائتوني بلبن ⦗١٦٣⦘ (فأتي بلبن) (٣) فشرب فخرج من جرحه) (٤)، فقال له الطبيب: أوصه فإني لا أظنك إلا ميتا من يومك أو من غد (٥).حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ جب حضرت عمر کو نیزہ لگا تو سب لوگ مضطرب ہوگئے یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے قریب ہوگیا ۔ تو ایک آواز دینے والے نے ندا دی۔ نماز ! چناچہ لوگوں نے حضرت عبد الرحمان بن عوف کو آگے کردیا۔ پس انہوں نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اور قرآن مجید کی دو مختصر سورتیں یعنی {إِنَّا أَعْطَیْنَاک الْکَوْثَرَ } اور {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللہِ } کو پڑھا۔ پھر جب دن نکل آیا تو ایک طبیب حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت عمر کے زخموں سے خون بہہ رہا تھا۔ طبیب نے پوچھا۔ آپ کو کون سا مشروب پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : نبیذ چناچہ نبیذ منگوایا اور اس کو حضرت عمر نے پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل آیا ۔ آپ نے فرمایا۔ یہ خون ملی پیپ ہے۔ تم میرے پاس دودھ لاؤ۔ چناچہ دودھ لایا گیا آپ نے دودھ نوش فرمایا تو وہ بھی زخموں سے باہر نکل آیا ۔ اس پر طبیب نے آپ سے کہا۔ کوئی وصیت کرلو۔ کیونکہ میرے خیال میں آپ ایک یا دو دن میں فوت ہوجائیں گے۔