مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٤٦ - حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن أبي (جمرة) (١) عن (جارية) (٢) ابن قدامة السعدي قال: حججت العام الذي أصيب فيه عمر، قال: فخطب (٣) فقال: إني رأيت (أن) (٤) (ديكًا) (٥) نقرني نقرتين أو ثلاثًا، ثم لم ⦗١٦٢⦘ (تكن) (٦) إلا جمعة أو نحوها حتى أصيب، قال: فأذن لأصحاب رسول اللَّه ﷺ، ثم أذن لأهل المدينة، ثم أذن لأهل الشام، ثم أذن لأهل العراق، فكنا آخر من دخل عليه وبطنه معصوب ببرد أسود والدماء تسيل، كلما دخل قوم بكوا وأثنوا عليه، فقلنا له: أوصنا -وما سأله الوصية أحد غيرنا- فقال: عليكم بكتاب اللَّه، فإنكم لن تضلوا ما اتبعتموه، وأوصيكم بالمهاجرين فإن الناس يكثرون ويقلون، وأوصيكم بالأنصار فإنهم شعب (الإسلام) (٧) الذي لجأ إليه، وأوصيكم بالأعراب فإنها أصلكم ومادتكم، وأوصيكم بذمتكم فإنها ذمة نبيكم (٨)، ورزق عيالكم، قوموا عني، فما (زادنا) (٩) على هؤلاء الكلمات (١٠).حضرت جاریہ بن قدامہ سعدی سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں : جس سال حضرت عمر کو زخمی کیا گیا میں نے اس سال حج کیا ۔ بیان کرتے ہیں کہ … حضرت عمر نے خطبہ دیا اور (اس میں) ارشاد فرمایا۔ میں نے (خواب) دیکھا ہے کہ ایک مرغ نے مجھے دو یا تین مرتبہ ٹھونگ ماری ہے۔ پھر اس کے بعد ایک جمعہ یا اس کے قریب ہی وقت گزرا تھا کہ حضرت عمر پر حملہ ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں : پس (پہلے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کو اجازت دی گئی۔ پھر اہل مدینہ کو اجازت دی گئی پھر اہل شام کو اجازت دی گئی پھر اہل عراق کو اجازت دی گئی۔ پس ہم حضرت عمر کی خد مت میں حاضر ہونے والے آخری لوگ تھے۔ آپ کا پیٹ سیاہ چادر سے باندھا ہوا تھا اور خون بہہ رہا تھا۔ جب بھی کچھ لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوتے تو لوگ رو پڑتے اور آپ کی تعریف کرتے۔ ہم نے آپ سے کہا۔ آپ ہمیں وصیت کریں۔ اور ہمارے علاوہ کسی نے بھی آپ سے وصیت کرنے کا سوال نہیں کیا … چناچہ حضرت عمر نے کہا۔ کتاب اللہ کو لازم پکڑو۔ کیونکہ جب تک تم لوگ اس کی تابعداری کرتے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ اور میں تمہیں مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ دیگر لوگ بڑھیں گے اور (یہ) کم ہوں گے۔ اور میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ ایمان کی ایسی گھاٹی ہیں جس کی طرف ایمان نے پناہ پکڑی اور میں تمہیں دیہاتیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تمہاری اصل اور مادہ ہیں۔ اور میں تمہیں تمہارے ذمیوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں یہ لوگ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذمہ ہیں اور تمہارے مال بچوں کی روزی ہیں۔ میرے پاس سے اٹھ جاؤ۔ اس سے زیادہ حضرت عمر نے ہمارے ساتھ بات نہیں کی۔