حدیث نمبر: 39845
٣٩٨٤٥ - حدثنا ابن [علية عن (سعيد) (١)] (٢) عن قتادة عن سالم (بن أبي الجعد الغطفاني عن معدان بن أبي طلحة اليعمري) (٣) أن عمر بن الخطاب (قام) (٤) خطيبًا يوم جمعة -أو خطب يوم جمعة- فحمد اللَّه وأثنى عليه، ثم ذكر نبي اللَّه ﷺ وأبا بكر. ثم قال: أيها الناس! إني قد رأيت رؤيا كأن ديكا أحمر نقرني نقرتين، ولا أرى ⦗١٦٠⦘ ذلك (إلا لحضور) (٥) (أجلي) (٦)، وإن الناس (يأمرونني) (٧) أن أستخلف، وإن اللَّه لم يكن ليضيع دينه وخلافته، والذي بعث (به) (٨) نبيه (٩)، فإن عجل (بي) (١٠) أمر فالخلافة شورى بين هؤلاء الرهط (الستة) (١١) (الذين) (١٢) توفي رسول اللَّه ﷺ وهو عنهم راض، فأيهم بايعتم له فاسمعوا له وأطيعوا. وقد عرفت أن رجالًا (سيطعنون) (١٣) في هذا الأمر، وإني قاتلتهم بيدي هذه على الإسلام، فإن فعلوا ذلك فأولئك أعداء اللَّه الكفرة الضلال، إني واللَّه ما أدع بعدي أهم إلي من أمر الكلالة، وقد سألت رسول اللَّه ﷺ (١٤) فما أغلظ لي في شيء ما أغلظ لي فيها (حتى) (١٥) طعن بإصبعه في (جنبي) (١٦) أو (في) (١٧) صدري، ثم قال: "يا عمر! (تكفيك) (١٨) آية الصيف التي أنزلت في آخر النساء"، وإن أعش فسأقضي فيها قضية لا يختلف فيها أحد يقرأ القرآن (أو لا يقرأ القرآن) (١٩). ⦗١٦١⦘ ثم قال: اللهم إني أشهدك على أمراء الأمصار، فإني إنما بعثتهم ليعلموا الناس دينهم وسنة نبيهم (٢٠)، ويقسموا فيهم فيئهم، ويعدلوا فيهم، فمن أشكل عليه شيء رفعه إليّ. ثم قال: أيها الناس! إنكم (٢١) تأكلون شجرتين لا أراهما إلا خبيثتين: هذا الثوم وهذا البصل، لقد كنت أرى الرجل على عهد رسول اللَّه ﷺ يوجد ريحه منه فيؤخذ بيده حتى (يخرج به) (٢٢) إلى البقيع، (فمن) (٢٣) كان آكلهما (لا بد) (٢٤) (فليمتهما) (٢٥) (طبخا) (٢٦). قال: فخطب بها عمر يوم الجمعة وأصيب يوم الأربعاء لأربع بقين لذي الحجة (٢٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے یا آپ نے جمعہ کا خطبہ دیا … پس اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو ! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ گویا کہ ایک مرغ تھا اس نے مجھے دو مرتبہ ٹھونگ ماری اور میں اس خواب کو اپنی عمر کے پورا ہونے سے ہی کنایہ دیکھ رہا ہوں اور لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں خلیفہ مقرر کر دوں۔ یقین کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو خلافت کو ضائع نہیں کرے گا اور اس چیز کو بھی ضائع نہیں کرے گا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا ہے۔ پس اگر مجھے جلد ہی موت نے آلیا تو پھر خلافت ان چھ لوگوں کے درمیان مشاورت کے ساتھ (طے) ہوگی جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رضا مندی کے ساتھ رخصت ہوئے ۔ ان میں سے جس کی بھی تم بیعت کرلو تو پھر اس کی بات سنو اور مانو۔ یقینا مجھے معلوم ہے کہ عنقریب کچھ لوگ اس معاملہ میں طعن کریں گے۔ اگر یہ لوگ ایسا کریں گے تو یہ اللہ کے دشمن ، کافر اور گمراہ ہوں گے۔ ٢۔ میں نے اپنے بعد کلالۃ کے معاملہ سے زیادہ اہم بحث نہیں چھوڑی اور تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی یہ سوال کیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی چیز میں اتنی سختی نہیں کی جو سختی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ اس (کلالہ) میں فرمائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عمر ! تمہیں سورة نساء کے آخر میں نازل ہونے والی آیۃ الصیف کافی ہے ۔ “ اور اگر میں مزید زندہ رہا تو عنقریب میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ کر جاؤں گا کہ پھر کوئی اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کرے گا۔ چاہے وہ قرآن پڑھا ہو یا نہ پڑھا ہو۔ ٣۔ پھرحضرت عمر نے کہا … اے اللہ ! میں تجھے شہروں کے امراء پر گواہ بناتا ہوں۔ کیونکہ میں نے انہیں صرف اس لئے بھیجا تھا تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سُنَّت سکھائیں۔ اور ان کی فئی ان ہی میں تقسیم کریں اور ان میں انصاف کریں اور انہیں جس بات کا اشکال ہو وہ بات مجھ تک لائیں ۔ ٤۔ پھر حضرت عمر نے کہا۔ اے لوگو ! تم دو درخت (پیداوار) ایسے کھاتے ہو کہ جن کو میں خبیث (ناپسندیدہ) ہی خیال کرتا ہوں۔ یہ تھوم اور یہ پیاز ہے یقینا میں ایک آدمی کو عہد پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دیکھتا کہ اس سے یہ بو آتی تو اس کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر لے جایا جاتا یہاں تک کہ اس کو بقیع کی طرف نکال دیا جاتا۔ پس جو شخص ان کو ضرور کھانا چاہے تو پکا کر ان کی بو کو مار ڈالے۔ ٥۔ راوی کہتے ہیں : پس یہ خطبہ حضرت عمر نے جمعہ کے دن ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز آپ کو زخمی کردیا گیا۔ ابھی ذی الحجہ میں چار دن باقی تھے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (شعبة).
(٢) ما بين المعكوفين في [ي]: بياض.
(٣) في [ي]: بياض.
(٤) في [ب]: (قال).
(٥) في [ع]: (لا حضور).
(٦) في [ع]: (جلي).
(٧) في [ع]: (يأمروني).
(٨) سقط من: [ب].
(٩) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(١٠) في [ب]: (لي).
(١١) في [ع]: (ستة).
(١٢) في [ع]: (الذي).
(١٣) هكذا في: [ق، هـ]، وفي [جـ]: (يطيعون)، وفي الباقي: (سيطيعون).
(١٤) سقط من: [ع].
(١٥) في [ي]: (حين).
(١٦) في [أ، ب]: (جبيني).
(١٧) سقط من: [هـ].
(١٨) في [ع، ي]: (يكفيك).
(١٩) سقط من: [جـ، ي].
(٢٠) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٢١) في [أ، ب]: زيادة (إلا).
(٢٢) في [أ، ب]: (يخرجه).
(٢٣) في [أ، ب]: (فإن).
(٢٤) في [س]: (فلا بد).
(٢٥) في [جـ]: (فليمتهما).
(٢٦) في [هـ]: (طنجًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39845
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٥٦٧)، وأحمد (٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39845، ترقيم محمد عوامة 38217)