مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
٣٩٨٤٢ - حدثنا ابن فضيل عن (حصين) (١) عن عمرو بن ميمون قال: جئت وإذا عمر واقف على حذيفة (٢) وعثمان بن حنيف، فقال: تخافان أن تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق، فقال حذيفة: لو شئت لأضعفت أرضي، وقال عثمان: لقد حملت أرضي أمرا هي له مطيقة، وما فيها (كثير) (٣) فضل، فقال: انظرا ما لديكما أن تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق، ثم قال: واللَّه لئن سلمني اللَّه لأدعن أرامل (أهل) (٤) العراق لا يحتجن بعدي إلى أح أبدًا، قال: فما أتت عليه إلا أربعة حتى أصيب. (قال) (٥): وكان إذا دخل المسجد قام بين الصفوف (فقال) (٦): استووا، فإذا استووا تقدم فكبر، قال: فلما كبر طعن مكانه، قال: فسمعته يقول: قتلني الكلب -أو (أكلني) (٧) الكلب، قال عمرو: (ما) (٨) أدري أيهما قال: قال: وما بيني وبينه ⦗١٥٤⦘ (غير) (٩) ابن عباس، فأخذ عمر بيد عبد الرحمن (بن عوف) (١٠) فقدمه (وطار) (١١) (العلج) (١٢) وبيده سكين ذات طرفين، ما يمر (برجل) (١٣) يمينًا ولا شمالًا إلا طعنه حتى أصاب منهم ثلائة عشر رجلا، فمات منهم تسعة، قال: فلما رأى ذلك رجل من المسلمين طرح عليه برنسا ليأخذه، فلما ظن أنه مأخوذ (١٤) نحر نفسه، قال: فصلينا الفجر صلاة خفيفة، قال: فأما نواحي المسجد فلا يدرون ما الأمر، إلا أنهم حيث فقدوا صوت عمر جعلوا يقولون: سبحان اللَّه -مرتين. فلما انصرفوا كان أول من دخل عليه ابن عباس فقال: انظر من قتلني؟ (قال) (١٥): (فجال) (١٦) ساعة ثم جاء فقال: غلام المغيرة الصناع، وكان نجارا، (قال) (١٧): فقال عمر: الحمد للَّه الذي لم يجعل منيتي بيد رجل يدعي الإسلام، قاتله اللَّه، لقد أمرت به معروفًا، قال: ثم قال لابن عباس: لقد كنت أنت وأبوك تحبان أن (تكثر) (١٨) العلوج بالمدينة، قال: فقال (ابن عباس) (١٩): إن شئت فعلنا، فقال: بعد ما تكلموا بكلامكم، وصلوا (صلاتكم) (٢٠)، ونسكوا (نسككم) (٢١)، ⦗١٥٥⦘ قال: فقال (له) (٢٢) الناس: ليس عليك بأس. قال: فدعا بنبيذ فشرب فخرج من جرحه، (ثم دعا) (٢٣) (بلبن) (٢٤) فشربه فخرج من جرحه، فظن أنه الموت فقال لعبد اللَّه بن عمر: (انظر ما عليَّ من الدين) (٢٥) (فاحسبه) (٢٦) فقال: (ستة) (٢٧) وثمانين (ألفًا) (٢٨)، فقال: إن (وفى بها) (٢٩) مال (آل) (٣٠) عمر فأدها عني من أموالهم، وإلا فسل بني عدي بن كعب، فإن (تف) (٣١) من أموالهم وإلا فسل قريشًا، ولا تَعْدُهم إلى غيرهم، (فأدها) (٣٢) عني. ٠٥ اذهب إلى عائشة أم المؤمنين فسلم وقل: يستأذن عمر بن الخطاب -ولا (تقل) (٣٣): أمير المؤمنين، فإني لست لهم اليوم بأمير- أن يدفن مع صاحبيه. قال: فأتاها عبد اللَّه بن عمر فوجدها قاعدة تبكي، فسلم ثم قال: يستأذن عمر بن الخطاب أن يدفن مع صاحبيه، قالت: قد -واللَّه- كنت أريده لنفسي، ولأوثرنه اليوم على نفسي. فلما جاء قيل: هذا عبد اللَّه بن عمر، قال: فقال: ارفعاني، فأسنده رجل إليه فقال: ما لديك؟ قال: أذنت لك، قال: فقال عمر: ما كان شيءٌ أهمَّ عندي من ⦗١٥٦⦘ ذلك، ثم قال: إذا أنا مت فاحملوني على سريري (٣٤)، ثم استأذن فقل: يستأذن عمر ابن الخطاب، فإن أذنت لك فأدخلني، وإن لم تأذن فردني إلى مقابر المسلمين. قال: فلما حمل (كأن) (٣٥) الناس لم تصبهم مصيبة إلا يومئذ، قال: فسلم عبد اللَّه بن عمر (وقال) (٣٦): (يستأذن) (٣٧) عمر بن الخطاب، فأذنت له حيث أكرمه اللَّه مع (رسول) (٣٨) اللَّه ﷺ (٣٩) ومع أبي بكر. فقالوا له حين حضره الموت: استخلف، فقال: لا أجد أحدا أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول اللَّه ﷺ وهو عنهم راض، (فأيهم) (٤٠) استخلفوا فهو الخليفة بعدي، فسمى عليا وعثمان وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعدا، فإن أصابت سعدا فذلك، وإلا فأيهم استخلف فليَستعن به، فإني لم أنزعه عن عجز ولا خيانة، قال: وجعل عبد اللَّه (بن عمر) (٤١) (يشاور معهم) (٤٢) وليس له له من الأمر شيء. قال: فلما اجتمعوا قال عبد الرحمن بن عوف: اجعلوا أمركم إلى ثلاثة نفر، قال: فجعل الزبير أمره إلى علي، وجعل طلحة أمره إلى عثمان، وجعل سعد أمره إلى عبد الرحمن، قال: فأتمروا أولئك الثلاثة حين جعل الأمر (إليهم) (٤٣)، ⦗١٥٧⦘ قال: فقال عبد الرحمن: أيكم (يتبرأ) (٤٤) من الأمر؟ ويجعل الأمر إليَّ، ولكم اللَّه عليَّ أن لا آلو عن أفضلكم (وخيركم) (٤٥) للمسلمين (٤٦)، (قالوا: نعم) (٤٧). فخلا لجي فقال: إن لك من القرابة من رسول اللَّه ﷺ (٤٨) والقدم، ولي اللَّه عليك لئن استخلفت لتعدلن، ولئن استخلف عثمان لتسمعن ولتطيعن، قال: فقال: نعم، قال: وخلا بعثمان فقال مثل ذلك، فقال له عثمان: نعم، ثم قال: يا عثمان ابسط يدك، فبسط يده فبايعه وبايعه علي والناس. ثم قال عمر: أوصي الخليفة من بعدي بتقوى اللَّه والمهاجرين الأولين أن يعرف (لهم) (٤٩) حقهم، ويعرف (لهم) (٥٠) حرمتهم، وأوصيه بأهل الأمصار (خيرًا) (٥١) فإنهم ردء الإسلام وغيظ العدو وجباة الأموال: أن لا يؤخذ منهم فيئهم إلا عن رضا منهم، وأوصيه بالأنصار خيرًا: الذين تبوؤا الدار والإيمان أن يقبل من محسنهم (٥٢)، وأوصيه بالأعراب خيرا فإنهم أصل العرب ومادة الإسلام، أن يؤخذ من حواشي أموالهم فترد على فقرائهم، وأوصيه بذمة اللَّه وذمة رسوله أن يوفى لهم بعهدهم وأن لا يكلفوا إلا طاقتهم (٥٣) (٥٤).حضرت عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ میں آیا تو میں نے دیکھا کہ حضرت عمر ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف کے پاس کھڑے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں۔ تم خوف کرو کہ تم نے زمین کو اس قدر عوض پر دیا ہے جو وسعت سے زیادہ ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اگر میں چاہوں تو اپنی زمین کو دو چند (عوض پر) کر دوں اور حضرت عثمان نے کہا۔ میں نے اپنی زمین کو ایسے معاملہ کے عوض میں رکھا جو اس کے مطابق ہے اور اس میں بہت زیادہ اضافہ نہیں ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے سلامت رکھا تو میں اہل عراق کے محتاجوں کو ایسی حالت میں چھوڑوں گا کہ میرے بعد وہ کسی اور کے محتاج نہیں ہوں گے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر چار دن ہی گزرے تھے کہ انہیں شہید کردیا گیا۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر جب مسجد میں داخل ہوتے تو آپ صفوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے اور فرماتے ۔ (صفوں میں) سیدھے ہو جاؤ۔ پس جب لوگ سیدھے ہوجاتے تو آپ تکبیر کہتے ۔ راوی کہتے ہیں ۔ پھر (جب ایک صبح) آپ نے نماز شروع کی تو آپ کی جگہ وار کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے آپ کو کہتے سُنا۔ مجھے کتے نے قتل کر ڈالا… یا …مجھے کُتّے نے کھالیا۔ راوی عمروکہتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا کہا ؟ میرے اور ان کے درمیان حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ پھر حضرت عمر نے عبد الرحمان بن عوف کو ہاتھ سے پکڑا اور آگے کر دیا…وہ قاتل دوڑنے لگا جبکہ اس کے ہاتھ میں دو دھاری چھری تھی وہ دائیں بائیں جس آدمی کے پاس سے گزرتا اس کو مارتا جاتا یہاں تک کہ اس نے تیرہ لوگوں کو زخمی کردیا۔ پھر ان زخمیوں میں سے نو افراد وفات بھی پا گئے۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب یہ منظر ایک مسلمان نے دیکھا تو اس نے اس کو پکڑنے کے لئے اس پر ایک بڑی چادر ڈال دی۔ پھر جب اس قاتل کو یہ یقین ہوگیا کہ وہ پکڑا جائے گا تو اس نے خود کو ذبح کرلیا۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں : پس ہم نے فجر کی ہلکی سی نماز ادا کی۔ راوی کہتے ہیں : مسجد کے کناروں والے لوگوں کو پتہ ہی نہیں لگا کہ کیا معاملہ ہوا ہے۔ ہاں جب انہوں نے حضرت عمر (کی آواز) کو نہ پایا تو یہ کہنا شروع کیا۔ سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! پھر جب لوگ چلے گئے تو پہلا شخص جو حضرت عمر کے پاس آیا وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھے۔ حضرت عمر نے (ان سے) کہا۔ دیکھو (معلوم کرو) مجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما تھوڑا سا گھوم کر واپس آئے اور بتایا۔ حضرت مغیرۃ کے کاریگر غلام نے ۔ اور یہ غلام بڑھئی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ہیں جس نے میری موت کسی ایسے آدمی کے ہاتھ سے واقع نہیں کی جو اسلام کا دعویدار ہو۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کرے۔ یقینا میں نے اس کو بھلائی کا حکم دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا۔ تحقیق تم اور تمہارے والد اس بات کو پسند کرتے تھے کہ مدینہ منورہ میں علوج زیادہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم یہ کرتے۔” انہوں نے کہا کہ بعد اس کے کہ تم اپنی بات کرچکے، اپنی نماز پڑھ چکے اور اپنے نسک ادا کرچکے۔ “ ٤۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں نے حضرت عمر سے کہا۔ آپ کو کوئی (بڑا) مسئلہ نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں : پھر حضرت عمر نے نبیذ منگوائی اور اس کو پیا لیکن وہ آپ کے زخموں سے باہر نکل گئی۔ پھر حضرت عمر نے دودھ منگوایا اور اس کو پیا لیکن وہ بھی آپ کے زخموں سے باہر نکل گیا۔ چناچہ آپ کو موت کا یقین ہوگیا ۔ تو آپ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔ مجھ پر جو قرض ہے اس کو دیکھو اور اس کا حساب کرو۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ چھیاسی ہزار ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ اگر یہ قرض آلِ عمر کے مال سے پورا ہوجائے تو میری طرف سے ان کے اموال میں سے اس قرض کو ادا کردو۔ وگرنہ بنو عدی بن کعب سے مانگ لینا۔ پھر اگر یہ قرض ان کے اموال سے پورا ہوجائے تو ٹھیک وگرنہ قریش سے مانگ لینا اور ان کے سوا اور کسی سے نہ مانگنا۔ اور یہ میری طرف سے قرضہ ادا کردینا۔ ٥۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف جاؤ اور (انہیں) سلام کرو اور کہو۔ عمر بن خطاب … امیر المؤمنین کا لفظ نہ کہنا کیونکہ میں اس وقت لوگوں کا امیر نہیں ہوں …اپنے دونوں ساتھیوں ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکر ) کے ساتھ دفن کئے جانے کی اجازت مانگتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس عبداللہ بن عمر آئے تو انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بیٹھے روتے پایا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سلام کیا پھر کہا۔ عمر بن خطاب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فن کئے جانے کی اجازت مانگتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ خدا کی قسم ! میں تو اس بات کو اپنے لئے چاہتی تھی (یعنی حجرہ میں دفن ہونا) لیکن میں آج اس رات (حجر ہ میں دفن ہونا) میں عمر فاروق کو اپنے اوپر ترجحب دیتی ہوں۔ پھر جب حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو کہا گیا۔ یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (واپس آگئے) ہیں۔ راوی کہتے ہیں : حضرت عمر نے فرمایا : م