مصنف ابن ابي شيبه
كتاب المغازي
ما جاء في خلافة عمر بن الخطاب ﵁ باب: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں آنے والی احادیث
حدیث نمبر: 39841
٣٩٨٤١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن أبي (الأحوص) (١) عن ⦗١٥٣⦘ عبد اللَّه قال: أفرس الناس ثلاثة: أبو بكر حين تفرس في عمر فاستخلفه، والتي قالت: ﴿اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ (الْأَمِينُ) (٢)﴾ [القصص: ٢٦] والعزيز حين قال: لامرأته: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ﴾ [يوسف: ٢١] (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے تین لوگ ہوئے ہیں۔ حضرت ابوبکر جب انہوں نے حضرت عمر کے بارے میں فراست کا اظہار کیا اور انہیں خلیفہ بنایا ۔ اور (دوسری) وہ عورت جس نے کہا تھا۔ { اسْتَأْجِرْہُ ، إِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِیُّ الأَمِینُ } اور (تیسرا) عزیز مصر جب اس نے اپنی بیوی سے کہا۔ { أَکْرِمِی مَثْوَاہُ }۔
حواشی
(١) في [ع]: (الأخوص).
(٢) في [ي]: بياض.